ورلڈ ہیڈر ایڈ

مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 50 واں روز ، ظلم بھی جاری ، قتل عام بھی جاری ، مگر کب تک رہے گا جاری ، عمران کان نے دنیا سے پوچھ لیا

مقبوضہ وادی میں کرفیو کا50 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،بھارت کی طرف سے کشمیر کو ہتھیانے کے بعد سے لے کر اب تک وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے ہیں‌،

آج بھارتی فوج نے ایک کشمیری لڑکے کو مار مار کر مار ہی دیا ، اس پر اتنے ظلم کیے گئے کہ دنیا کے تمام میدیا نے اسے برداشت سے باہر اور انسانیت کی تذلیل سے تعبیر کیا ہے، اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے اس نوجوان کو گھر سےاٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ شہید ہوگیا

دوسری طرف کشمیری اپنے ہی گھروں میں قیدی بن کر رہ گئے، بھارتی فوج نے کپواڑا میں گھر پر دھاوا بول دیا اور سامان کی توڑ پھوڑ کی، پلواما میں 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔ مقبوضہ وادی میں 5 اگست سے کرفیو نافذ ہے، چپے چپے پر بھارتی فوج تعینات ہے۔

لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس بھی بند ہے، تمام حریت اور سیاسی رہنماؤں کو گھر اور جیلوں میں نظر بند کر رکھا ہے۔ وادی بھر میں مودی سرکار کے خلاف مظاہرے ہوئے، بارہمولا، کپواڑا، باندی پورہ، پلوامہ اور شوپیاں سمیت مختلف اضلاع میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

آزادی کے حق میں اور مودی سرکار کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے نہتے افراد پر قابض فوج نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور گولیاں برسائیں جس سے متعدد کی حالت غیر ہوگئی۔وادی میں تعینات بھارتی فوج نے خوف کا ماحول بنا دیا، کشمیری اپنے گھروں میں قید ہوگئے، لوگ روزمرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ، بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔

وادی میں مارکیٹ، دکانیں، بزنس اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ مسلسل کرفیو کی وجہ سے سیب کی پکی فصلیں خراب ہونے لگیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فصلیں مارکیٹوں تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔وادی میں تمام مساجد کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، اب تک ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے

دنیا جانتی ہے کہ ظالم ، قابض بھارتی فوج طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز دبانے میں مصروف ہے۔ ہر گلی اور سڑک پر بھارتی فوج تعینات ہے، کشمیریوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا جا رہا، مارکیٹیں ، دکانیں، ٹرانسپورٹ بند ہیں، کمیونی کیشن سسٹم بند جبکہ ٹی وی چینلز تک رسائی نہیں، مودی سرکار بھارتی سیاسی رہنماؤں کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی،

دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم اس وقت امریکہ میں اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کررہےہیں ، عمران خان 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور وہاں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا واضح موقف بھی دیں گے اور اپنا لائحہ عمل بھی بتائیں گے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.