fbpx

چھ ماہ کے مولود بچے کا فیصلہ تحریر: احسان الحق

مدینے میں ایک عورت کے ہاں شادی کے محض 6 ماہ بعد بچے کی پیدائش ہوئی حالانکہ عموماً شادی کے 9 ماہ بعد یا کم سے کم 7 ماہ بعد خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں. بچے کی پیدائش کا سن کر لوگوں نے چہ میگوئیاں شروع کر دیں کہ 6 ماہ کے حمل کے بعد بچہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے. اسی وجہ سے لوگوں نے شک کرنا شروع کر دیا کہ یہ عورت حقوق زوجیت میں خیانت کی مرتکب ہوئی ہے. لوگوں نے الزامات لگانا شروع کر دئیے کہ یہ بچہ اس کے شوہر کا نہیں بلکہ یہ بچہ شادی سے پہلے کا ہے.

امیرالمؤمنین خلیفہ ثانی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے پاس اس عورت کا مقدمہ پہنچا تو آپ نے ملزمہ کو طلب فرماتے ہوئے اس پر مقدمہ چلانے کے بعد رجم کرنے کی سزا کا حکم صادر فرمایا. دربار خلافت میں امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ بھی موجود تھے. آپ حضرت علیؓ خلیفہ ثانی حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے قاضی کے عہدے پر تھے. آپ نے امیرالمؤمنین کے عورت کو رجم کرنے کے فیصلے سے مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ

"یہ عورت قابل سرزنش نہیں ہے. اس کے خلاف رجم کی سزا درست نہیں. اگر تم لوگ صرف اس لئے عورت کو گناہ گار سمجھ رہے ہو کہ بچہ شادی کے 6 ماہ بعد پیدا ہوا ہے تو اس وجہ سے عورت قابل سزا نہیں اور نہ ہی اس عورت پر یہ الزام عائد ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے حق میں مخلص نہیں ہے. یہ بچہ عورت کے شوہر کا ہے”

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا جواب سن کر لوگ تعجب کا شکار ہو گئے اور پوچھنے لگے کہ کیسے؟

آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے  سورہ "احقاف” کی آیت نمبر 15 کی تلاوت کرتے ہوئے لوگوں بتایا کہ

"عورت کے حمل کا اور بچے کو دودھ چھڑانے کا عمل 30 ماہ کا ہے” (الاحقاف15)

مطلب حمل اور رضاعت کی پوری مدت 30 ماہ یعنی 2 سال اور 6 ماہ ہے.

اسی طرح سے سورہ بقرہ کی تلاوت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

"مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں” (البقرہ 233)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق دودھ پلانے کی مدت دو سال یعنی 24 مہینے ہے اور حمل اور رضاعت کی کل مدت 30 ماہ ہے. ان 30 مہینوں میں سے 24 مہینے دودھ پلانے کے اور 6 مہینے حمل کے ہیں. لہذٰا اگر کوئی عورت 6 ماہ میں بچے کو جنم دے تو یہ بچہ اس کے شوہر کا ہوگا اور وہ عورت قابل سرزنش نہیں ہوگی.

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے علم اور آپکی ذہانت کی وجہ سے ایک عورت رجم ہوتے ہوتے بچ گئی.

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ  حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے مزکورہ دونوں آیات سے اور سورہ لقمان کی آیت 14 سے یہ استدلال کیا ہے کہ وضع حمل کی کم سے کم مدت 6 ماہ ہے. 6 ماہ کے حمل کے بعد بچے کی پیدائش پر عورت کی سرزنش نہیں کی جاسکتی. حضرت علیؓ کا استنباط صحیح اور قوی ہے. اس دلیل اور رائے سے امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اور دیگر اصحابِ رسولﷺ نے اتفاق کیا ہے.

سلف صالحین کا یہ دستور تھا کہ نوعیت مسئلہ سمجھنے کے بعد اجتہاد کی بنیاد پر فیصلہ کرتے. اگر ان کے فیصلے کے خلاف قرآن مجید کی کوئی آیت یا حدیث پیش کی جاتی تو وہ فوراً اپنے فیصلے پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فیصلے کو ترجیح دینے میں بالکل پس و پیش نہیں کرتے تھے. مذکورہ بالا واقعہ اس حوالے سے بہترین مثال ہے.

@mian_ihsaan