fbpx

6 ستمبر 1965ء کی جنگ تحریر : اقصٰی صدیق

پاکستانی قوم ہر سال 6 ستمبر یومِ دفاع کو ایک قومی دن کےطور پر مناتی ہے، اس دن کو منائے جانے کا مقصد پاک بھارت جنگ 1965ء میں عسکری افواج کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد تازہ کرنا ہے۔
اور دشمن کو بارآور کرانا ہے کہ ہماری افواج ہر مشکل گھڑی میں وطن عزیز کے تحفظ کی خاطر دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے۔
6 ستمبر 1965ء کی جنگ میں شہادت بہت سوں کا مقدر ٹھہری اور بہت سے غازی بن کر لوٹے۔
اس سلسلے میں سکولز، کالجز اور جامعات میں سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں اور ہمارے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ان کی وطن عزیز کے دفاع کی خاطر دی گئی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔پاکستان کی 67 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی اندرونی اور بیرونی دشمن نے وطن عزیز کو نقصان پہنچانا چاہا تو پاک فوج ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح اس کے سامنے ڈٹ گئی ۔ میدان جنگ میں ہر فوجی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسی جرأت مندی اور بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرے کہ پوری قوم اس پر فخر کر سکے۔
آج بھی ہم میں سے ہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع اور لازوال قربانیوں پر فخر کرتا ہے اور یقین و ایمان رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے۔
افواج پاکستان سے یکجہتی کا اظہار روح کو گرما دیتا ہے، دل جذبے سے سرشار ہو جاتا ہے اور ہمارے شہداء فوجی جوانوں کی لازوال قربانیوں کی داستانیں آنکھیں نم کردیتی ہیں۔ 6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ کا تذکرہ ہمارے دلوں کو ایمان ویقین کی طاقت اور جوش و جذبے سے لبریز کر دیتا ہے۔ گویا 6 ستمبر کا دن رہتی دنیا تک کبھی نا بھولنے والا قابلِ فخر دن ہے۔
6 ستمبر کی جنگ پاکستان اور بھارت کے مابین پہلی ایک عالمی جنگ تھی۔جس میں ہمسایہ ملک بھارت نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وطن عزیز پاکستان پر لاہور کے اطراف سے حملہ کیا،
لیکن یہ مملکت خداداد کو تباہ کرنے اور لاہور پر قبضہ جمانے کی محض ایک ناکام کوشش ثابت ہوئی، دشمن نے منہ کی کھائی۔
آپریشن جبرالٹر اور مقبوضہ کشمیر تنازعہ اس جنگ کی بنیادی وجہ ہیں۔
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم سے ہی دونوں ممالک کے درمیان کافی پیچیدگیاں رہی ہیں۔جن میں سے سب سے اہم مسئلہ کشمیر تھا، تقسیمِ برصغیر پاک و ہند کے بعد ہی بھارت نے عالمی برادری کے سامنے کشمیر کی آزادی کے متعلق کیے گئے فیصلوں کی نا صرف خلاف ورزی کی بلکہ آزادی کے مؤقف کو دبانے کی بھرپور کوششیں کیں، اور بالآخر نندا کمیشن رپورٹ میں اپنی طاقت کا مؤقف استعمال کرتے ہوئے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے دیا۔ بھارت کی جانب سے کی گئی یہ ناانصافی آج 73 برس گزرنے کے باوجود بھی حل طلب ہے،
اور موجودہ دنوں کشمیر بھارتی سفاکیت و مظالم کا شکار ہے۔اور بھارت کشمیریوں کی آواز دبانے میں آج بھی ناکام ہے۔
اس کے برعکس آپریشن جبرالٹر کے نتائج دونوں ممالک کے مابین مزید کشیدگی کا باعث بنے، اور 1965ء کی جنگ کو ہوا دی۔
مسئلہ کشمیر تنازعہ اور اس کے بعد بھارت کا پاکستانی علاقے رن آف پر حملہ کرنا، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوابی کارروائی کی ضرورت محسوس ہوئی۔
اور اسی تناظر میں چونڈہ کے مقام پر جنگ ہوئی۔
جنگی ساز و سامان سے لیس اور طاقت کے نشے میں دُھت بھارتی فوج نے لاہور پر حملہ کرنے کے بعد پاک فوج کی توجہ اپنی طرف سے ہٹانے کے لیے 600 ٹینکوں اور ایک لاکھ افواج کے ساتھ سیالکوٹ کے اطراف میں حملہ شروع کر دیا۔
لیکن پاک فوج کے نوجوان وطنِ عزیز کی سلامتی کی خاطر جسموں پر بم باندھے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے اور دشمن کے متعدد ٹینک تباہ کر ڈالے اور چونڈہ کے محاذ کو دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنادیا،
تاریخ میں اس جنگ( 1965ء) کو دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ میں پاک فضائیہ نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، پاک فضائیہ نے نہایت مستعدی سے کام لیا اور اس جنگ میں دشمن ملک بھارت کے 110 طیارے مار گرائے جبکہ صرف 19 پاکستانی طیارے ملکی دفاع کے کام آئے۔دشمن کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب 17 روز تک جاری رہنے والی اس جنگ میں دونوں ممالک اپنی اپنی فتح و کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں۔
6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید ملک کا دفاع کرتے ہوئے بہت بہادری سے دشمن کے حملوں کا جواب دے رہے تھے کہ دشمن ٹینک سے ایک گولہ ان کے سینے پر آ لگا اور وہ موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئے۔ان کی اس بہادری پر حکومت پاکستان نے انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا۔
جنگ کے ان دنوں ملک تنزلی کا شکار تھا، دفاعی سامان اور افواج دونوں کی کمی تھی۔ لیکن قوت ایمانی سے سرشار قوم اور افواج نے دشمن کو گٹنیے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، غیور قوم نے اپنے ایمان، جوش اور جذبہ شہادت سے ثابت کیا کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی ہر ممکن صلاحیت رکھتی ہے، اور انشاءاللہ آئندہ بھی دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔کیوں کہ ہمارے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

@_aqsasiddique