fbpx

دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی:شیری رحمان

کراچی:دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی 60 فیصد کمی انتہائی خطرناک ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے سندھ میں پانی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے بیراجوں اور نہروں میں پانی کی 52 سے 62 فیصد کمی کی وجہ سے آبادی، زراعت اور مویشیوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کی قلت کی وجہ سے سندھ کے کئی شہروں کو پانی نہیں مل رہا، اس وقت کوٹری ڈاؤن اسٹریم 15 ہزار کیوسک پانی ہونا چاہیے تھا لیکن 2 ہزار کیوسک سے بھی کم چھوڑا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ پانی کی اس شدید قلت کی وجہ سے سندھ میں کپاس، چاول اور دیگر فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، ہیٹ ویو اور شدید گرمی کی اس موسم میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں پانی کی قلت تشویشناک ہے۔

شیری رحمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق 2025 تک پاکستان خشک سالی کا شکار ہو جائے گا، پانی کی 1991 کے پانی معاہدے کے مطابق منصفانہ تقسیم ضروری ہے، ہمیں واٹر کنزرویشن اور صوبوں کے بیچ منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔

 

ادھرسندھ حکومت نے سندھ کے تقریباً تمام پانی کے کینالوں پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ کے محکمہ داخلہ نے ڈی جی رینجرز سندھ سے سندھ کے مختلف پانی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کے لئے خط لکھ دیا۔

 

 

خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے اور ملک بھر میں پانی کی شدید کمی کے سبب صوبے بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے اریگیشن ایکٹ 1979 کی شق 27 سی کے تحت بندوبست کیا گیا۔روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران صوبے کے مختلف کینالز پر محکمہ آبپاشی کے عملے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر پانی چوروں کی جانب سے حملے کئے گئے ہیں۔

 

 

صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ آبپاشی حکام نے رینجرز کی تعیناتی کی گزارش کی ہے، تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ نہ آ سکے۔