fbpx

7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

سعودی عرب میں اونٹوں اور گھوڑوں کے چٹانوں پر کندہ تقریباً 7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت ہوئے ہیں۔

باغی ٹی وی : سعودی عرب میں حال ہی میں منبت کاری کے 21 نمونے دریافت کیے گئے ہیں پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ ان کی سنگ تراشی کوئی زیادہ پرانی نہیں ان نقش و نگار کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے سے لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں کافی پرانے ہیں۔

پی سی بی کا راولپنڈی میں نیشنل ٹی20 کپ کرانے کا فیصلہ

ابتدائی طورپر 2018 میں اردن میں بطرا میں دریافت شدہ آرٹ ورک سے مماثلت کی بناپریہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ یہ قریباً 2000 سال پرانے ہوسکتے ہیں۔

لیکن سعودی اور یورپی اداروں کی نئی تحقیق میں مختلف طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے ان میں سنگ تراشی کے آلات کے نشانات (ٹول مارکس) اور کٹاؤ کے نمونوں کے ساتھ ساتھ ایکسرے ٹیکنالوجی کا تجزیہ بھی شامل ہےاس سے پتا چلتا ہے کہ منبت کاری کے یہ آثار قریباً 7000 سے 8000 سال پرانے ہیں۔

مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ان نقش ونگار کا علاقہ،جسے اونٹ سائٹ کے نام سے جانا جاتا ہے ممکنہ طورپردنیا میں جانوروں کی ان کے فطرتی حجم کے برابر بڑے پیمانے پر سنگ تراشی کا سب سے پرانامرکزہے۔

شہباز شریف کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس: ایک اور ملزم گرفتار

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جس دور میں انہیں تخلیق کیا گیا تھا اس دورمیں یہ خطہ آج کے بنجرمنظرنامے سے بہت مختلف نظرآتا ہوگا اس دور میں یہ علاقہ گھاس کے میدان، جھیلوں اور درختوں سے بھراپڑا تھا، جہاں جنگلی اونٹ آوارہ گھومتے پھرتے تھے اور شکار کیے جاتے تھے۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ اب ہم اونٹ سائٹ کو قبل ازتاریخ کے ایک دور سے جوڑسکتے ہیں جب شمالی عرب کی بدوی آبادیوں نے سنگ تراشی کا فن تخلیق کیا اور پتھر کے بڑے ڈھانچے تعمیرکیےتھے جنہیں مستطیل کہا جاتا ہے ۔

عمر شریف کے بیرون ملک علاج معالجے کے لیے ایئر ایمبولینس کی کب تک آمد متوقع ہے؟

محقیقین کی ٹیم میں شامل سنگ تراش نے اندازہ لگایا تھا کہ ایک نقش کو مکمل ہونے میں 15 دن تک منبت کاری کی جاتی ہو گی یہ کام ایک اجتماعی کوشش ہوسکتا ہے۔