73 سالہ ظلم کی برسی اور بالی ووڈ کی سازشیں !!! از قلم: غنی محمود قصوری

کشمیر کا نام آتے ذہن میں ظلم و ستم کی فلم چلنے لگ جاتی ہے وہ ظلم جو ہندو مشرک نے پچھلے 73 سالوں سے کشمیریوں پر کیا ہے مگر داد شجاعت ہے اس کشمیری قوم کو کہ جو 73 سالوں سے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے
پچھلے سال 5 اگست کو انڈین گورنمنٹ نے کشمیری باشندوں کی آزادی و خودمختاری پر شب و خون مارتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا جس سے پوری وادی سراپا احتجاج بن گئی کیونکہ یہ آرٹیکل کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دیتے ہیں جس کی بدولت ریاست جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والا باشندہ ہی کشمیری کہلوا سکتا ہے ،وادی میں جگہ خرید کر سکونت اختیار کر سکتا ہے اور کشمیری عورت سے شادی کر سکتا ہے یہی آرٹیکل ہندو کیلئے وبال جان تھے سو اس نے اسے ختم کر دیا مگر وہ بھول گیا آرٹیکل کاغذ پر نہیں دلوں میں رقم ہوتے ہیں
اپنی اس سلب آزادی پر کشمیریوں نے احتجاج کیا اور ہندو پر نعرے بازی کیساتھ سنگ بازی بھی کی جسے دیکھتے ہوئے پہلے سے ہی انڈین گورنمنٹ نے وادی میں کرفیو نافذ کرنے کیساتھ موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کر دی اور یوں کشمیری قوم پوری دنیا سے کٹ کر رہ گئی
مذید عالمی وباء کووڈ 19 نے دنیا بھر کی دنیا مقبوضہ وادی میں بھی پنجے جمانے شروع کئے تو بہانے کے متلاشی انڈیا نے 21 اپریل کو مکمل لاک ڈاؤن کر دیا جس سے کشمیری مکمل طور پر گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے اس بہانے غاصب انڈین فوج کو کریک ڈاؤن کے بہانے کشمیریوں کی نسل کشی کا خوب موقع ملا اور وہ ظالم درندے ظلم کی نئی داستان رقم کرتے گئے
چونکہ موبائل و انٹرنیٹ سروس بند رہی اس لئے اس ایک سال کی کل شہادتوں کی تعداد کا تعین مشکل ہے مگر اس ایک سال میں ہندو درندہ صفت فوج نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا،ہزاروں کشمیری عورتوں کی عزتیں پامال کیں اور کروڑوں روپیہ کی املاک نذر آتش کیں
ساتھ ہی موقع پرست چالاک و عیار بنیئے نے انڈیا سے پنڈتوں اور انڈین مذہبی انتہاہ پسند تنظیموں کے کارندے بھی کشمیر میں لا کر بسانا شروع کر دیئے تاکہ دنیا کے سامنے کشمیر کو ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترکہ علاقہ ثابت کیا جا سکے
فوج کے ساتھ ان ہندو جنونیوں نے کشمیری عورتوں کی آبرو ریزی کیساتھ کشمیری مسلمانوں کا قتل عام بھی شروع کر دیا جس پر کشمیریوں کیساتھ عالمی دنیا میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی
ظاہری بات ہے اس ساری صورتحال پر کشمیری مجاھدین اور لوگ خاموش تو نہیں رہ سکتے تھے سو سویلین و مجاھدین کشمیر نے اپنی طاقت کے مطابق انڈین فوج کیساتھ ہندو پنڈتوں اور دہشت پسند مسلح ہندو کارندوں کا کریا کرم کرنا شروع کیا جس سے انڈین فوج کیساتھ بہت زیادہ تعداد میں ہندو پنڈت مارے گئے اور جو بچے وہ وادی سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے اس ساری صورتحال سے پریشان ہندو مشرک نے بھاگتے پنڈتوں کو دوبارہ لاکر بسانے اور اپنی فوج کا مورال بلند کرنے کیلئے ایک بار پھر اپنی فلم انڈسٹری کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا اور اسی ناکام و بدنام
فلمی ہیروؤں نے پھر سے ایک بار فلموں کے ذریعے کشمیر کو فتح کرنے کیساتھ مجاھدین کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنی کی ٹھانی اور ایک نئی فلم ،سرینگر،بنانے کا آغاز کر دیا
ابھی اس فلم کا ایک ٹریلر ہی جاری کیا گیا ہے جس میں کشمیری مجاھدین کو عورتوں کا رسیا اور ہندوؤں پر ظلم کرنے والا دکھایا گیا ہے اور اسی کلپ میں جرآت و بہادری کی مثال خلیفتہ المسلیمین جناب حضرت عمر فاروق کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے خود ساختہ یہ بات کہی گئی ہے کہ بقول حضرت عمر مسلمانوں کیلئے کفار کی عورتیں جائز ہیں اسی لئے مجاھدین کشمیر ہندو عورتوں کو کشمیر سے اٹھاتے ہیں اور ہوس کا نشانہ بناتے ہیں
ہندو مشرک پلید یہ بھول گیا کہ اس سے قبل بھی وہ سینکڑوں فلمیں آزادی کشمیر کی تحریک کو کچلنے اور اپنی پلید بزدل فوج کو ہیرو ثابت کرنے کے لئے بنا چکا ہے مگر نتیجہ ہر بار بے سود ہی رہا ہے جیسے جیسے انڈیا نے فلموں میں اپنی فوج کو بہادر دکھلایا ویسے ہی انڈین فوج میں خودکشیوں کی شرح بڑھ گئی اور مسلح تحریک کو مذید تقویت ملی
دنیا کی ہر بزدلی چاہے وہ دوران معرکہ پتلون میں پیشاب نکلنا ہو یا خود کشی اپنے افسر کو قتل کرنا ہو یا فوج سے بھاگ کر دشمن سے جا ملنا ، اسی ہندو مشرک پلید فوج میں ملے گی
حالات و واقعات گواہ ہیں اس وقت لائن آف کنٹرول پر انڈیا کا کڑا پہرہ ہے اور ہر وقت شدید دو طرفہ بمباری جاری ہے جس سے لائن آف کنٹرول کے آر پار جانا ناممکن ہے مگر پھر بھی کشمیری مجاھدین تحریک آزادی کو اپنی مدد آپ سے زندہ رکھے ہوئے ہیں جو کہ عالمی دنیا کو ایک پیغام ہے کہ جو مرضی ہو جائے یہ تحریک آزادی پایہ تکمیل تک پہنچے گی کیونکہ کشمیری وہ قوم ہے کہ جس نے ایک اذان کو مکمل کرنے کی خاطر 21 جانوں کا نذرانہ دے کر اذان مکمل کی کشمیری ماؤں نے ایک بیٹے کی شہادت کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے بیٹے کو خود بندوق پکڑا کر اندین فوج کے خلاف میدان میں نکالا
یہ تو پھر آزادی کی تحریک ہے کہ جس میں اللہ خود حکم دے رہا قرآن میں کہ
اورتمہیں کیاہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اوران بے بس مردوں اور عورتوں اوربچوں کے لیے نہیں لڑتے جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنادے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگاربنا دے۔ النساء
یہ ہندو مشرک تحریک آزادی کو اپنے کرنلوں،جرنلوں کے ذریعے کچلنا چاہیں تب بھی ناکام اور اپنے کنجر کنجریوں کے ذریعے فلمیں بنا کر کچلنا چاہیں تب بھی ناکام کیونکہ اللہ تعالی نے ناکامی مسلمانوں کے لئے رکھی ہی نہیں ناکامی تو اس ہندو کا مقدر ہے جو پچھلے 73 سالوں سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی ذلیل و رسوا ہو گیا اور اب اپنی فوج کا مورال اپ کرنے کیلئے فلموں کا سہارا لینے لگا مگر وہ بھول گیا جہاں گولی کام نہیں آئی وہاں ان کی فلموں پر کشمیری قوم لعنت ڈالتی ہے
یہ بنا لیں جتنی بنا سکتے ہیں ان شاءاللہ فتح حق کی ہی ہو گی باطل فنا ہو گا ان شاءاللہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.