ورلڈ ہیڈر ایڈ

8 جون یوم شہادت ڈاکٹر نذیر شہید خصوصی رپورٹ

ڈاکٹر نذیر شہید
آج 8 جون کا دن کیا کہتا ہے؟؟
قتل و غارت گری کے سائے میں
زندگی موت کے مساوی ہے
امن کا ایک پرسکوں لمحہ
ظلم کی ایک صدی پہ حاوی ہے
قیامت کے روز تک حسینیت اور یزیدیت ساتھ ساتھ چلتی رہے گی، ایک طرف درود و سلام کے نذرانے، دوسری طرف لعنت کی پھٹکار۔۔۔۔۔
یہ1970 کی دہائی ہے، نئی حکومت معرض وجود میں آئی، ڈیرہ غازی خان میں سرداریت، جاگیرداریت کے ظلم کدے میں ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر نے سردار فاروق احمد خان لغاری کے بزرگ سردار محمد خان لغاری کے مدمقابل قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا، جماعت اسلامی کے ٹکٹ کو یہاں پر کامیابی ملی، ایک درویش،غریب ،دیہاڑی کے مزدور ڈاکٹر نذیر احمد قومی اسمبلی کے ممبر بن گئے،ڈاکٹر نذیر احمد سے متعلق بہت سی باتیں منظر عام پر آئیں،مثال کے طور پر وہ ایک جوڑا کپڑوں کا پہن کر جاتے،قومی اسمبلی کی عمارت کے باہر تہمد باندھ کر پھر اسے خود دھوتے بعد ازاں اسمبلی کا رخ کرتے،(ایسا اس لئے کہ ذرائع مواصلات کم، دو دنوں کی مسافت طے کرنی پڑتی) کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم ایک دن اسمبلی میں شراب کی بوتل ہمراہ لائے،ڈاکٹر نذیر احمد سے یہ دیکھا نہ گیا انہوں نے آگے بڑھ کر ملک کے بااختیار طاقتور شخص کا گریبان پکڑ لیا، قبل ازیں ڈاکٹر نذیر احمد کی دھواں دار تقریریں بھی قومی اسمبلی میں اپنا اثر جما چکی تھیں،ایسی صورتحال میں وزیراعظم نے گورنر پنجاب کو ٹاسک دیا کہ اس شخص(ڈاکٹر نذیر) سے پیچھا چھڑایا جائے
☆ڈاکٹر نذیر احمد کی ذاتی زندگی، الیکشن مہم☆
وہ ڈیرہ غازی خان سے تونسہ، وہوا، پھر جام پور، روجھان شاہ والی تک سائیکل پر سفر کرتے، حکمت کا بیگ بھی ساتھ رکھتے،جہاں کوئی، بیمار یار غریب دیکھتے اس کا علاج معالجہ مفت کرتے۔
☆ڈاکٹر نذیر احمد کے آخری لمحات
کہا جاتا ہے کہ اس وقت کی گورنمنٹ نے سزائے موت کے قیدی شاہنواز سدوزئی کو مبینہ طور پر ٹاسک دیا کہ وہ ڈاکٹر نذیر احمد کو قتل کردیں تو اس کے بدلے انہیں رہائی مل سکتی ہے، رپورٹ کے مطابق یہ 8 جون کا دن تھا بعد نماز مغرب جب قاتل ویسپا (سکوٹر) پر 12 بلاک ڈی جی خان میں ڈاکٹر نذیر احمد کے کلینک پر آ کر رکا، ڈاکٹر صاحب ایک سادہ کرسی پر بیٹھے تھے،پہلا فائر انہیں کندھے پر لگا جس پر ڈاکٹر محترم نے انہیں کہا کہ بھائی تیرا وار خطا گیا، دوسرا فائر ڈاکٹر صاحب کی پیشانی کے اندر گھستا ہوا انہیں ابدی نیند سلا گیا،یوں ڈاکٹر صاحب اپنی جرات،بیباکی کے پیش نظر آج تک مردہ نہیں، بلکہ شہید کا مرتبہ پا گئے، ڈاکٹر صاحب کو قتل کرنے والے کا انجام اس طرح ہوا کہ، گدائی کے گراؤنڈ میں اس کو مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا، کہا جاتا ہے کہ 48 گھنٹےتک اس کی لاش اٹھانے نہیں دی گئی، کیونکہ عوام کا جم غفیر ڈاکٹر نزیر شہید کی محبت میں شقی القلب انسان کو معاف کرنے کے لئے تیار نہ تھا، ڈاکٹر نذیر احمد جماعت اسلامی کے مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر تھے، سید مودودی نے اس عظیم سانحہ پر کہا تھا کہ "ڈاکٹر نذیر احمد کی رحلت سے ان کا دایاں بازو جدا ہو گیا”
*۔۔۔۔بقول شاعر۔۔۔۔۔۔۔*
*ہے شوق دل و جاں میں سلامت تو سمجھنا*
*سازش کی کوئی شاخ نہ پھولی نہ پھلی ہے*
*بارود کی آندھی میں سنبھالے ہوئے رکھنا*
*اس دیس کی ہر شمع جو مشکل سے جلی ہے*

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.