fbpx

سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

کولمبو: سری لنکا میں 80 سال بعد کسی ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ’ایجنسی فرانس پریس‘ (اے ایف پی) کے مطابق دارالحکومت کولمبو سے 90 کلو میٹر کی دوری پر بنائے گئے ہاتھیوں کے سنٹر میں موجود 25 سالہ "سورنگی” نے جڑواں بچوں کو جنم دیا ہے ہاتھیوں کی دیکھ بھال کے لیے سری لنکن حکومت کی جانب سے پناولا کے مقام پر 1975 میں بنائے گئے آشرم کے حکام کے مطابق کچھ دن قبل ہی انہوں نے ہاتھیوں کے ہمراہ دو چھوٹے ہاتھی دیکھے تھے۔


جس کے بعد انہوں نے کئی دن تک ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ اس ہتھنی نے ان جڑواں بچوں کو جنم دیا ہےسنٹر کی انتظامیہ اور ڈاکرز کا کہنا ہے کہ دونوں بچے معمول سے تھوڑے چھوٹے ہیں لیکن ماں اور بچے بالکل محفوظ اور صحت مند حالت میں ہیں۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں آخری مرتبہ 1941 میں کسی ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی سورنگی نے 2009 میں بھی ایک نر ہاتھی کو جنم دیا تھا جب کہ اب بھی ان کے ہاں دونوں نر ہاتھی پیدا ہوئے ہیں 25 سالہ ہتھنی کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کا والد 17 سالہ ہاتھی ہے-

سری لنکا کو دنیا بھر میں ہاتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وجہ سے شہرت حاصل ہے اور وہاں تقریبا 7 ہزار 500 تک ہاتھی موجود ہیں ڈھائی کروڑ سے کم آبادی والے ملک کے بڑے گھرانوں کے لوگ ہاتھیوں کو گھروں میں رکھ کر دولت یا اعلیٰ ہونے کی تشہیر کرتے ہیں۔

سری لنکن حکومت نے جانوروں کی حفاظت کے لیے سخت قوانین فافذ کر رکھے ہیں، برا سلوک کرنے والے ملزم کو تین سال قید کی سزا تک ہو سکتی ہے اور ان سے ہاتھی چھین کر سرکاری تحویل میں لے لیا جاتا ہے کیونکہ سری لنکا کا امیر طبقہ اپنی دولت کی نمائش کے لیے ہاتھیوں کو پالتو جانوروں کے طور پررکھتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ برا برتاو کے بھی کئی واقعات رپورٹس ہو چکے ہیں۔

علاوہ ازیں ہاتھیوں سمیت دیگر کچھ جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے پر موت کی سزا تک کے قوانین بھی نافذ ہیں مگر ایسے قوانین پر ناذ و شادر ہی عمل کیا جاتا ہے۔

سرکاری ریکارڈز کے مطابق سری لنکا بھر میں 200 کے قریب ہاتھی گھروں میں موجود ہیں جبکہ ملک میں 75 ہزار سے زائد ہاتھی پائے جاتے ہیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!