fbpx

80 سال قبل جنگِ عظیم دوم میں تباہ ہونے والا بمبار طیارہ بحیرہ روم میں دریافت

سسلی: ماہرین کا کہنا ہے کہ 80 سال قبل جنگِ عظیم دوم کے دوران بحیرہ روم میں تباہ ہونے والے رائل ایئر فورس کے بمبار طیارے کو دریافت کرلیا گیا۔

باغی ٹی وی : جون 1942 میں تباہ ہونے والا مارٹِن بالٹی مور IV/V نامی طیارہ امریکا میں بنا لیکن رائل ایئر فورس کے زیر استعمال تھا یہ زیادہ تر کینیڈا اور آسٹریلیا میں پہنچائے گئے، لیکن کچھ کو امریکہ میں رکھا گیا۔ جون 1942 میں ڈوبنے والا بالٹیمور Mk II سیریل نمبر AG699 تھا-

دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

یہ طیارہ جس وقت سمندر میں گِرا اس وقت اس میں 4 افراد سوار تھے، جن میں دو کا تعلق رائل ایئر فورس، ایک کا تعلق رائل آسٹریلین ایئر فور اور ایک رائل کینیڈین ایئر فورس تھا 2016 میں دریافت ہونے والے اس ملبے کے متعلق حکام کا کہنا تھا کہ یہ اپنی اعلیٰ حالت میں محفوظ ہے جس کی بڑی تاریخی اور علامتی قدر ہے۔تاہم مکمل تصدیق سے قبل اس کے متعلق بات نہیں کی گئی۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ جنگِ عظیم دوم کا اور کوئی مارٹِن بالٹی مور اس بہترین حالت میں موجود نہیں ہے جہاز کے متعلق نتائج جنگی ریکارڈ کے مجموعے، ملبے کے نئے سروے اور عینی شاہد کی گواہی پر مبنی ہیں جس نے 80 سال قبل اس جہاز کے تباہ ہونے کے مناظر دیکھے تھے۔

"ڈیلی میل” کے مطابق ماہرین کو الگ سے معلوم تھا کہ طیارے میں عملہ کون تھا اور ساتھ ہی وہ مقام بھی جہاں اسے آخری بار دیکھا گیا تھا، لیکن جب تک وہ ملبے کی شناخت کی تصدیق نہیں کر لیتے وہ تمام معلومات کو اکٹھا کرنے سے قاصر تھے۔

نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

یہ نتائج جنگی ریکارڈ، ملبے کے نئے سروے اور عینی شاہدین کے اکاؤنٹس کے امتزاج پر مبنی ہیں، بشمول ایک مقامی شخص جس نے 80 سال قبل اس کے خطرناک جاسوسی مشن کے دوران ہوائی جہاز کو آسمان سے گرتے دیکھا تھا۔

ان کا اعلان سمندر کے ثقافتی اور ماحولیاتی ورثے کے سپرنٹنڈنس، سسلی کے خود مختار علاقے کے لیے ایک ادارہ، سوپرنٹینڈینزا ڈیل مارے نے کیا۔

اس نے ایک بیان میں کہا، ‘لینوسا کے فینالینو’ کے سامنے ڈوبنے والے ملبے کی شناخت کو لپیٹ میں لینے والی دھند بالآخر ختم ہو گئی ہے دریافت کے حوالے سے متعلقہ ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اب تک سِسیلی کے سمندروں میں جنگِ عظیم دوم میں تباہ ہونے والے کسی جہاز کا ملبہ اصل حالت میں موجود نہیں ہے۔

فلوریڈا کے ساحل پر 1930 سے نصب لینڈ مائن‘برآمد

مارٹن بالٹیمور (Mk II سیریل نمبر AG699) کو کچھ نقصان ہوا ہے – اس کے جسم کے ساتھ آدھے راستے میں ایک شگاف ہے اور بائیں بازو کا ایک چھوٹا حصہ غائب ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خاص مارٹن بالٹیمور (Mk II سیریل نمبر AG699) جزوی طور پر ریت میں ڈوبا ہوا ہے لیکن پنکھ اور دم اب بھی سمندر کی تہہ سے اوپر ہے۔

بمبار نے 15 جون 1942 کو صبح 12 بج کر 45 منٹ پر مالٹا کے لوکا ہوائی اڈے سے پینٹیلیریا جزیرے کے ارد گرد کے علاقے میں بحری ٹریفک کا مشاہدہ کرنے کے لیے اڑان بھری لیکن ممکنہ طور پر گولہ لگنے یا انجن فیل ہونے کی وجہ سے سمندر میں برد ہوگیا تھا۔

RAF لائٹ بمبار اب لینوسا کے پانی کی سطح سے تقریباً 280 فٹ (85 میٹر) نیچے ہےSoprintendenza del Mare نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم میں زندہ رہنے اور اس کے بعد کسی بھی تباہی کے بعد اتنی بہترین حالت میں مارٹن بالٹیمور طیارے کا وجود آج تک معلوم نہیں ہے۔

برطانیہ کو 30 سالہ تاریخ میں سب سے بڑی ریلوے ہڑتال کا سامنا