82 پائلٹس کے لائسنس جعلی ،دعوے 262 کے کررہے تھے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس

اسلام آباد:82 پائلٹس کے لائسنس جعلی ،دعوے 262 کے کررہے تھے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس ،اطلاعات کے مطابق آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) تعیناتی کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ پارلیمنٹ کے فلور پر 262 پائلٹس کے لائسنس جعلی ہونے کا بیان دیا گیا اور آج کہہ رہے ہیں کہ صرف 82 ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مبینہ طور پر جعلی ڈگری پر برطرف کیے جانے والے پائلٹ اور ڈی جی سول ایوی ایشن کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران سیکریٹری ایوی ایشن حسن ناصر جامی اور اٹارنی جنرل خالد جاوید خان عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اس عدالت نے ہمیشہ ایگزیکٹو کے کام کو ان پر چھوڑا ہے لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے، یہاں معاملہ قومی ایئرلائن کی ساکھ اور قومی وقار کا ہے، سیکریٹری بورڈ کا چیئرمین ہے اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں کہ چیئرمین کو ڈی جی کا چارج دیا جا سکے۔

 

 

انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن ایک اہم ترین ریگولیٹری اتھارٹی ہے، یہ بتائیں کہ کتنے پائلٹس کے لائسنس جعلی ہونے کا بیان پارلیمنٹ کے فلور پر دیا گیا، کس نے ان 262 پائلٹس کے لائسنس جعلی ہونے کا بتایا، کیا ریگولیٹری اتھارٹی نے ان جعلی لائسنسز کے بارے میں بتایا؟

اس پر سیکریٹری سول ایوی ایشن کا کہنا تھا کہ جی، ایوی ایشن ڈویژن نے ہی یہ رپورٹ دی، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ایوی ایشن ڈویژن کا اس میں کوئی کردار نہیں، ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ان 262 میں سے کتنے پائلٹس کے لائسنس درست نکلے۔عدالتی استفار پر سیکریٹری سول ایوی ایشن نے جواب دیا کہ 50 پائلٹس کے لائسنس منسوخ ہو چکے ہیں جبکہ مزید 32 کے لائسنس مشکوک ہیں۔

عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے سیکریٹری سے کہا کہ جن کے لائسنس جعلی ہیں ان کے نام سامنے لائیں، اس طرح ہمارے پوری دنیا میں ہزاروں پائلٹس کے لائسنس منسوخ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی ایوی ایشن اور سیکریٹری کا چارج ایک شخص کے پاس نہیں ہو سکتا، کابینہ نے سیکریٹری کو ڈی جی ایوی ایشن کا اضافی چارج دیا، میں نے حکومت کو بتایا کہ یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اس پر عدالت نے پوچھا کہ مستقل ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کب تک کی جائے گی، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئندہ 2 سے 3 دن میں نئے ڈی جی ایوی ایشن تعینات کر دیے جائیں گے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سیکریٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے جو غیرقانونی اقدامات ہیں ان کا تحفظ کون کرے گا، آپ نے جو اقدامات لیے وہ سارے خلاف قانون ہیں، یہ عدالت ایگزیکٹو کا احترام کرتی ہے لیکن احتیاطاً کہہ رہی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے غیرقانونی ہے، جو اقدامات قانون کے خلاف جائیں گے وہ غیرقانونی قرار دیے جائیں گے۔بعد ازاں عدالت نے 8 دسمبر تک ڈی جی سول ایوی ایشن کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن عدالت میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ اسی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی جی سول ایوی ایشن کی تعیناتی کا حکم بھی تھا ،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.