نوسالہ پاکستانی عابد شیخ کی لاش کنٹرول لائن کے پار،والدین پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ،بھارت تعاون کرنے سے انکاری

گلگت:بھارت پھر اپنی حرکتوں پر آگیا .ایک نو سالہ پاکسانی بچے کی لاش واپس کرنے سے انکار کرنے لگا.اطلاعات کے مطابق چند دن پہلے پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ایک نو سالہ بچے کی لاش کو پانی بہا کر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر لے گیا۔ کنٹرول لائن کی مشکلات کی وجہ سے والدین کے لیے نہ ختم ہونے والی اذیت بن گئی ہے۔

مظفر آباد سے ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 8 جولائی کو اس وقت پیش جب یہ بچہ سکول سے واپسی پر لاپتہ ہو گیا۔ بچے کو تلاش کرنے کی تمام کوششیں لاحاصل ثابت ہوئیں اور اس کا کوئی پتہ نہ چل سکا۔ اس بچے کا تعلق گلگت بلستان کے ضلع استور کی تحصیل شونٹر کے علاقے منی مرگ سے ہے. مقامی افراد کا کہنا ہے بچہ نالے میں گر کر دم توڑ گیا جس کے بعد اس کی لاش پانی میں بہہ گئی۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بچے کی لاش کب بھارت کے زیرِ اتنظام کشمیر جا پہنچی۔ کنٹرول لائن کے پار مقامی افراد نے پانی میں ایک بچے کی بہتی لاش دیکھ کر اسے نکال لیا لیکن بھارتی فوج عابد شیخ کی لاش واپس کرنے میں مدد نہیں کررہی اور مقامی افراد کو بھی خوفزدہ کررکھا ہے.

یہ بھی معلوم ہو اہے کہ علاقے کے لوگوں نے لاش میں مدد حاصل کرنے کے لیے معصوم عابد شیخ کی تصویر فیس بک پر اپ لوڈ کی جس کے بعد کنٹرول لائن کے پار بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے اس کے بارے میں معلومات ملیں۔عابد کے والدین بہت غمگین ہیں اور خاندان کے افراد سمیت تمام اہل علاقہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کی حکومتیں انسانی ہمدردی کے تحت لاش کی واپسی کو یقینی بنائیں۔‘

ڈپٹی کمشنر ضلع استور عظیم اللہ نے کہا کہ انھوں نے بھی اسلام آباد کو لکھ کر دفتر خارجہ سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے اور امید ہے کہ دونوں حکومتیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بچے کی لاش کی واپسی کے لیے کردار ادا کریں گی۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ عابد شیخ کی فیملی سے رابطے میں ہے اور انھیں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.