fbpx

90 فیصد ریونیو دینےوالےشہر کو کچرہ کنڈی بنادیا،مرادعلی شاہ کو حساب دیناہوگا

بجٹ_21 2020 پر پارلیمانی لیڈر حلیم عادل کی پریس کانفرنس

انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں سندھ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ گیارہ جون تک 53فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ ہی نہیں کرسکے ہیں208 ارب بجٹ تھا78ارب کی بچت رکارڈ کی گئی پیسے تھے اعداد وشمار کا گورکھ دھندہ ہے سندھ بجٹ85بلین روپے خزانے میں موجود ہےخزانے میں کوئی کمی نہیں خرچ نہیں کرسکے 400 ترقیاتی پروگراموں میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرسکی ان کامقصد ترقیاتی کام نہیں ہیں۔

پچھلے سال انفیکشن ڈزیزاسپتال نہیں بناسکے
گرین لائن اس سال روڈوں پرنظرآئیں گی ایک بس نہیں دی کراچی میں ہمارے معاشی اقدارتباہ کرتے ہیں ایک بس تک نہیں دیا ہماری مائوں بہنوں کو چنگچی میں بیٹھناپڑتاہےشکل سے تووزیراعلی صاحب معصوم نظرآتےہیں2246منصوبوں پررقم خرچ نہیں کرسکے۔

8912ارب روپے سندھ کو 13سال میں ملےہیں
1646ارب روپے سندھ حکومت نے ترقیاتی مد میں خرچ دکھائے.سات ہزار ارب روپے غیر ترقیاتی مد میں خرچ کیےاسکولوں میں بھینیسں بندھی ہوئی ہیں اسپتال این جی اوز کو دیئے گئے ہیں سندھ میں ڈاکو پولیس کو قتل کرکے ڈانس کرتے ہیں.90 فیصد ریونیو دینےوالےشہر کو کچرہ کنڈی بنادیا.مرادعلی شاہ کو حساب دیناہوگا۔