خصوصی عدالت کا ٹرائل رکوانے کے لیے پرویز مشرف کی درخواست پرعدالت نے کیا کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خصوصی عدالت کا ٹرائل رکوانے کے لیے پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت ہوئی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت کی ،پرویز مشرف کے وکیل اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے کہا کہ پرویز مشرف کی جانب سے متفرق درخواست دائر کی ہے ۔
۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف کی درخواستوں کی سماعت کے لیے فل بنچ تشکیل دینا مناسب ہو گا ؟ عدالت نے پرویز مشرف کی ٹرائل روکنے کی درخواست پر کل کے لیے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیے ۔
درخواست گزار نے کہا کہ پرویز مشرف کیخلاف غداری کے استغاثہ کی سماعت کرنیوالی خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی ہے،پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کے لئے وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی،سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی صوابدید پر خصوصی عدالت قائم کی، خصوصی عدالت کے پراسیکیوٹر کی تعیناتی سمیت کوئی عمل قانون کے مطابق نہیں کیا گیا،
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ لاہور ہائیکورٹ خصوصی عدالت کی کارروائی کا ریکارڈ طلب کرنے کا حکم دے،عدالت خصوصی عدالت کی کارروائی اور تشکیل کو غیر آئینی قرار دے،لاہور ہائیکورٹ پرویز مشرف کیس کا ٹرائل روکنے کا حکم دے ۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ 19 نومبر کو محفوظ کیا تھا جو 28 کو سنایا جانا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا ہے۔
پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس، عدالت نے کس کو وکیل مقرر کیا؟ اہم خبر
پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس ،روزانہ سماعت کا حکم
لاہور ہائی کورٹ میں بھی سابق صدر کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی ،درخواست میں حکومت،وزارت قانون،ایف آئی اے اور خصوصی عدالت کے رجسٹرارکوفریق بنایا گیا ہے، درخواست گزار پرویز مشرف نے درخواست میں کہا کہ خصوصی عدالت نے 19نومبرکوموقف سنے بغیرغداری کیس کافیصلہ محفوظ کیا،بیماری کی وجہ سےبیرون ملک مقیم ہوں،
درخواست میں پرویز مشرف نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کیس کودوبارہ سماعت کے لئےشروع کیا جائے ،خصوصی عدالت کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم معطل کیا جائے،عدالت غداری کیس کی سماعت تندرست ہونے تک ملتوی کرنے کاحکم دے،








