خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی پولیو کے کیسز رپورٹ، وزیراعلیٰ کا بڑا حکم

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ اور پنجاب میں پولیو وائرس کے مزید 2،2 نئے کیسز سامنے آگئے۔ خیبر پختونخواہ میں بھی پولیو کے دو نئے کیسز سامنے آ گئے،پنجاب انسداد پولیو پروگرام کے مطابق پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کی 2 بچیوں میں پولیووائرس کی تصدیق ہوئی ہے ، گزشتہ سال دسمبر میں ان بچیوں کے نمونے لئے گئے تھے.

ترجمان ایمرجنسی آپریشن سیل کا کہنا ہےکہ دونوں کیسز کی تحقیقات دسمبر 2019 میں شروع ہوئیں تھیں۔ سندھ میں پولیو کے کیسز کی تعداد 34 ہوگئی۔ گزشتہ سال پنجاب بھر میں پولیو کے 6 کیسز سامنے آئے تھے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈیرہ غازی خان میں پولیوکے کیس سامنے آنے کی خبر کا نوٹس لے لیا،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پولیو کیس سامنے آنے پرانتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر اظہار برہمی کیا،وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبائی محکمہ صحت سے رپورٹ طلب کر لی.

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان میں پولیو کے کیس سامنے آنا انتہائی تشویشناک امر ہے ،انسداد پولیو کےلیےاقدامات میں غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کروں گا،وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ انسداد پولیو کے لیے مربوط اقدامات میں مزید تیزی لائی جائے .

خیبر پختونخواہ میں پولیو کے نئے کیسزسامنے آنے پر ایمر جنسی آپریشن سنٹر کے کوآرڈنیٹر عبدالباسط نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ انسداد پولیو مہم کو اور موثر بنائے تاکہ پولیو کا خاتمہ ممکن ہو سکے ای او سی کوآرڈنیٹرنے کہا کہ ہر بچے تک رسائی اور پولیو قطرے پلوانا ضروری ہے۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوانے پولیو مہم کے دوران 5نقائص کی نشاندہی کردی،خیبر پختونخوامیں پولیو مرض کےاضافے کی بڑی وجہ پولیو عملہ قراردیا گیا ہے،رپورٹ میں کہا گیا کہ عملے کی جانب سے انکارکرنے والے والدین کی جعلی مارکنگ کی گئی ،ویکسی نیشن کیلئےزبردستی اقدام،مشروط سودہ بازی اورعلاقوں تک رسائی بھی وجوہات میں شامل ہیں، خیبر پختونخوا میں 2018 کے دوران 8 اور2019 میں 75 نئے کیسزسامنےآچکے ،پولیو مرض سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے بنوں اور لکی مروت ہیں،بنوں اور ڈی آئی خان میں 24،24، شمالی وزیرستان میں 8 اورتورغر میں 7 کیسزرپورٹ ہوئے.

صوبہ خیبر پختونخوا میں تقریباً 79 ہزار والدین ہی انسداد پولیو مہم میں بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک صوبے میں 79 پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں اس سال کے اختتام تک مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

خیبر پختونخواہ میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز، حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

بنوں میں پولیو کا ایک اور کیس، انسداد پولیو مہم جاری

رواں برس صوبے میں 79 ہزار والدین نے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا ،پشاور میں 42بچوں کے والدین کا انسداد پولیو کے قطرے پلانے سے انکارکیا،مردان میں8ہزار722اورکرم میں6ہزار504بچوں کے والدین نے انکار کیا،شمالی وزیرستان سے 6 ہزار 343 اورصوابی سے 3ہزار 470 بچوں کے والدین نے انکار کیا،

خیبر پختونخواہ میں انسداد پولیو مہم میں رکاوٹ پولیو سٹاف بن گیا

پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈہ، سات تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی

سوشل میڈیا پر پولیو مخالف مواد، کتنے اکاونٹس بند ہوئے، حیران کن خبر

خیبرپختونخوامیں انسدادپولیو مہم کے دوران 67 لاکھ 47 ہزاربچوں کو قطرے پلانے کا ہدف تھا،ایک لاکھ 61 ہزار بچے مختلف وجوہات کی بنا پر حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہے،82ہزار سےزائدبچے 3روزہ انسدادپولیومہم کےدوران گھروں میں موجودنہیں تھے

خیبر پختونخواہ کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ماشوخیل واقعہ میں بے بنیاد منفی پروپیگنڈے نے پولیو پروگرام کو شدید دھچکا پہنچایا۔ پولیو ویکسین کے خلاف منفی پروپیگنڈے سے نمٹنے کیلئے محکمہ صحت نے باعث ایک بار پھر علما کرام اور اسکالرز سے تعاون مانگ لیا .

 

Shares: