انقرہ :یورپ کے بگڑے ہوئے نسلیت پرست بچے اپنی حد میں رہیں، ترک پرچم ہر جگہ لہراتا رہے گا،اطلاعات کےمطابق ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے یورپی پارلیمنٹ میں ترکی کے پرچم کو پھاڑنے والے نسلیت پرست یونانی ممبر پارلیمنٹ لوآنیس لاگوس کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کےمطابق اس موضوع سے متعلق ٹویٹر سے جاری کردہ بیان میں چاوش اولو نے کہا ہے کہ "ہم نے اپنے عظیم پرچم کی طرف بڑھنے والے ہاتھوں کو کیسے توڑا، ان کی فوجوں کو کیسے سمندر برد کیا تھا اسے سب سے زیادہ بہتر یہ نسلیت پرست جانتے ہیں۔ یہ یورپ کے بگڑے ہوئے نسلیت پرست بچے اپنی حد میں رہیں”۔
وزیر خارجہ چاوش اولو نے کہا ہے کہ "یورپ کو اب اسلام مخالفت اور نسلیت پرستی کے خلاف قدم اٹھانا چاہیے۔ ہمارا پرچم ہر جگہ پورے وقار کے ساتھ لہراتا رہے گا۔ ہم یورپی یونین کے، اس مسخرے کے بارے میں، ضروری کاروائی کرنے کے منتظر ہیں”۔
واضح رہے کہ نسلیت پرست یونانی پارلیمنٹیرین لوآنیس لاگوس نے بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز میں منعقدہ یورپی یونین کی جنرل کمیٹی کے ” یونانی جزائر میں انسانی صورتحال” کے عنوان سے منعقدہ اجلاس میں ترکی کے پرچم کو پھاڑ دیا تھا۔
لاگوس نے مہاجرین کے یونانی عوام پر حملے کرنے کا دعوی کیا اور کہا تھا کہ "ایک طرف ترکی ہے جو اپنی من مانیاں کر رہا ہے۔ ہمارے ملک میں جوق در جوق مہاجرین آ رہے ہیں۔ اور یہ ترکی کا پرچم ہے ۔ اس کے ساتھ کیا کیا جانا چاہئیے۔ اسے پھاڑ کر پھینک دیا جانا چاہیے۔ اب ہمیں اسے نقطہ انجام پر لانا چاہیے”۔








