باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی ہے اور ساتھ میں شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت بھی دی ہے
تاہم بھیونڈی کے مقامی لوگ شراب کی دکانیں کھلنے کی اجازت ملنے پر سخت برہم ہیں اور انکا کہنا ہے کہ اسوقت تک شراب کی دکان نہیں کھلنے دیں گے جب تک ہمارا مندر بند رہے گا
بھیونڈی مٰن شراب کی دکان جب کھلنے لگی تو شہری جمع ہو گئے اور کہا کہ ہم شراب کی دکان کھلنے کی اجازت نہیں دیں گے، دکاندار نے کہا کہ میرے پاس اجازت نامہ ہے جس پر شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم اہسے اجازت نامے کو نہیں مانتے کہ مندر بند ہو اور شراب کی دکان کھلی ہو،
بعد ازاں دکاندار نے پولیس کو طلب کیا جس پر پولیس موقع پر پہنچی اور دکاندار کو دکان بند کرنے کا حکم دیا.
بھارت میں کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارتی ریاست مہاراشٹر میں 10 کروڑ مالیت کی شراب تباہ ہو گئی ہے.بھارتی میڈیا کے مطابق یہ اعدادوشمار ریاستی ہوٹل اور ریسٹورنٹس سے لئے گئے ہیں.
مغربی ہندوستان کے ریسٹورنٹ اسوسیشن نے مہارشٹرا حکومت کو خط میں درخواست کی ہے کہ انہیں ہوٹلوں میں موجود شراب کی فروخت کرنے کی اجازت دی جائے ۔مہارشٹرا میں سالانہ 86کروڑ لیٹر شراب کا استعمال ہوتاہے جو اوسط ایک روز میں 24لاکھ لیٹر ہے۔
مہاراشٹر میں دیسی شراب کی 3327 کے قریب اور 1348 غیرملکی شراب کی دکانیں کھولنے کی اجاز دی گئی ہے، ریاستی حکومت کے مطابق شراب کی دکانوں سے 110 کروڑ کی یومیہ فروخت ہو گی
بھارت میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے شراب کی دکانیں بند تھیں اور تقریباً ڈیڑھ ماہ سے لوگ شراب کو ترس رہے تھے جو سٹاک گھر پر تھا وہ ختم ہو چکا تھا اسلئے دکانوں پر لمبی لائنیں لگیں، جب دکانیں کھلیں تو لوگ کئی مقامات پر دکانوں کی پوجا کرتے نظر آئے تو کہیں شہریوں نے ناریل پھوڑے اور پھر دکانداروں نے شراب بیچنے کا آغاز کیا، کئی مقامات پر دکانیں کھلنے پر تالیاں بجائی گئیں اور پھول بھی برسائے گئے
بھارت میں تقریبا گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے لاک ڈاؤن جاری ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت کا خزانہ خالی ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلہ میں وزارت داخلہ کی جانب سے کچھ شرائط کے ساتھ کئی دکانیں کھولنے کا فیصلہ کیا سب سے اہم ہے شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت ملنا۔ حکومت بھی جانتی ہے کہ زیادہ تر ریاستوں میں کل خزانہ کا 15 سے 30 فیصد حصہ شراب سے آتا ہے۔
بھارتی ریاست کرناٹک کے ہاسن ضلع میں شراب بیچنے والوں نے دکان کھولنے سے پہلے باضابطہ پوجا کی۔ کرناٹک میں کنٹونمنٹ زون کو چھوڑ کر پوری ریاست میں شراب فروخت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ریاست کے ایکسائز وزیر ایچ ناگیش کا کہنا ہے کہ صرف میسور سیلس انٹرنیشنل لمیٹڈ (ایم ایس آئی ایل) اور ایم آر پی دکانوں کو صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک شراب کی دکان کھولنے کی اجازت ہوگی۔
بھارتی ریاست اتر پردیش کے نوئیڈا شہر میں بھی شراب کی دکانوں کے باہر صبح سویرے سے لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔ جیسے ہی 10 بجے شراب کی دکان کھلی، لوگوں نے زور زور سے تالیاں بجانی شروع کر دیں۔
دہلی میں بھی شراب کی دکان کھلنے کے بعد یہی صورتحال دیکھنے کو ملی دہلی کے کئی علاقوں میں شراب فروخت کرنے کو منظوری دے دی گئی جس کی وجہ سے دکانیں کھلنے کے پہلے ہی دن لوگوں نے لمبی لمبی قطاریں لگا دیں۔ سماجی فاصلہ کی دھجیاں اڑائی گئیں جس پر پولیس ایکشن میں آئی اور شراب خریدنے والوں پر لاٹھی چارج کیا اور گرفتاریاں بھی کیں،پولیس نے کئی دکانوںکو سماجی فاصلے کے قانون پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے انہیں سیل بھی کر دیا ہے
کرونا کا خوف، بھارت میں فوج کے بعد پولیس والوں کو بھی چھٹی دے دی گئی
کرونا لاک ڈاؤن میں بھی جرائم کم نہ ہو سکے،15 روز میں 100 افراد قتل
کرونا وائرس سے لڑنے کی بھارتی صلاحیت جان کر مودی بھی شرمسار ہو جائے
دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض
سبزی و فروٹ منڈی میں بھی کرونا پھیل گیا، 12 تاجروں میں تشخیص
کرونا وائرس سے خاتون سکول ٹیچر کی ہوئی موت
لاک ڈاؤن کے دوران شراب کی دکانیں کھولنے کی ملی اجازت
دہلی کے کشمیری گیٹ کے علاقہ میں شراب کی دکان کے باہر زبردست رش جمع ہوا، جس کو ہٹانے کے لیے پولس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ بعد ازاں پولس نے دکان کو بند کر دیا اس طرح کے واقعات کے بعد پولس کے جوان شراب کی دکانوں کے باہر تعینات کر دیئے گئے ہیں اور دکانوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔








