باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ڈل جھیل کے قریب ہندو یاتریوں کی ایک تصویر سامنے آئی ہے

صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں ہندو یاتری ڈل جھیل کے پاس کنارے کھڑے ہو کر پیشاب کر رہے ہیں، صارف نعیم اختر نے ساتھ پیغام میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ڈل جھیل کی خوبصورتی کو یہ لوگ تباہ کر رہے ہین، یہ کون ہیں اندازہ کرنے کی ضرورت نہیَ یہ اپنے کپڑوں سے پہچانے جائیں گے

واضح رہے کہ وادی کشمیر کی ایک جھیل ڈل جھیل ہے اور سری نگر کا شہر اسی کے کنارے آباد ہے۔ دنیا کی چند ممتاز سیرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ چونکہ دریائے جہلم اس کے بیچ سے ہو کر نکلتا ہے اس لیے اس کا پانی شریں ہے۔سرینگر شہر کے بیچ 25 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی اس جھیل میں دلہن کی طرح سجائی گئی ہاؤس بوٹس اور شکارے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔

ڈل جھیل کو دنیا بھر میں اس خطے کی پہچان سمجھا جاتا ہے اور یہ عالمی شہرت یافتہ جھیل موسمِ گرما میں سیاحوں اور مقامی لوگوں کی چہل پہل سے کِھل اٹھتی تھی لیکن ہندو یاتریوں نے ڈل جھیل کے پاس آکر جو کام شروع کیا اس نے سب کو شرما دیا

مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی مقدس امرناتھ یاترا کے انعقاد کی اجازت عدالت نے دی تھی جس کے بعد ہندو یاتری مقبوضہ کشمیر پہنچے ہیں۔ وبائی مرض کرونا کی وجہ سے ياترا پر جانے والوں کے لئے سخت قوائد و ضوابط طے کئے گئے ہیں اور حفاظتی انتظامات کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔

بھارت کے مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ بھی دو روز قبل اپنے دو روزہ دورہ لداخ اور جموں و کشمیر کے دوسرے دن جنوبی کشمیر میں سطح سمندر سے 13 ہزار 500 فٹ بلندی پر واقع شری امرناتھ جی گھپا میں درشن کے لئے حاضر ہوئے جہاں انہوں نے کورونا وبا سے نجات کے لئے دعا مانگی تھی

اس موقع پر ان کے ہمراہ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل ایم ایم ناروانے بھی تھے۔دفاعی ذرائع کے مطابق موصوف مرکزی وزیر نے اس دوران یاترا کے لئے عملی شکل دیے جانے والے انتظامات کے علاوہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ بھی لیا

Shares: