اسلام آباد، پاکستان میں سیٹلائیٹ ٹیلی ویژن اور میڈیا کی دنیا بدلنے والا پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹو ہوم(DTH)کا منصوبہ بھی کھٹائی کا شکار ہوگیا ہے۔پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے ذمہ دار ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے زیرالتواءمنصوبہ ڈی ٹی ایچ جس کی باقاعدہ طور پر نیلام عام 03-10-2016 کو اسلام آباد میں منعقد ہوئی اس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنیوالی نجی کمپنیوں نے بھرپور شرکت کی جس پر تین کمپنیوں نے کامیاب بولی دی جس پر حکومتی خزانے کو 14.5ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہونا تھا تاہم سکیورٹی کلیئرنس کی وجہ سے دو کمپنیوں کو لائسنس دینے سے حکومت پاکستان نے انکار کردیا اور ایک اسلام آباد کی نجی کمپنی شہزاد سکائی پرائیویٹ لمیٹیڈ کو گزشتہ سال ڈائریکٹ ٹو ہوم سروسز کا پاکستان میں لائسنس جاری کردیا گیا۔
کمپنی کو 50فیصد نقد ادائیگی اور باقی رقم دس سال کی اقساط پر ادا کرنے کی بھی سہولت دے دی گئی جبکہ کمپنی نے 20 فیصد ایڈوانس ٹیکس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرکے وہ رقم بھی ادا نہیں کی ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈائریکٹ ٹو ہوم منصوبے سے پاکستان میں چلنے والے بھارتی ڈی ٹی ایچ جو کہ 50 لاکھ سے زائد پاکستانی عوام استعمال کررہی ہے اور ہر ماہ پاکستان سے اربوں روپے ان بھارتی چینلز کو پاکستانی عوام بذریعہ آن لائن اور دیگر ذرائع سے ادا کررہے ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ گزشتہ 16 سال سے ڈی ٹی ایچ کے منصوبہ کیلئے حکومت کی طرف سے ہوم ورک کیا جارہا تھا۔ بالآخر نجی کمپنی کو لائسنس دیا گیا تاہم شہزاد سکائی نامی کمپنی نے ایک سال گزر جانے کے باوجود اپنی سروسز شروع نہیں کی ہیں اور پیمرا کی طرف سے دئیے گئے لائسنس کی میعاد بھی 11فروری 2020ءکو ختم ہوگئی ہے اور کمپنی کی طرف سے ادا کی گئی تمام تر رقم حکومت پاکستان پیمرا سیکشن 35کے تحت ضبط کرنے کا مجاز ہوگیا ہے ۔
ذرائع نے بتایا کہ لائسنس حاصل کرنیوالی کمپنی کو متعدد بار یاددہانی کے نوٹسز جاری کئے گئے ہیں تاہم کمپنی کی طرف سے ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب یا کارکردگی سامنے نہیں آئی ہے۔اس حوالے سے ”جنگ“ کے رابطہ کرنے پر پیمرا کے ڈائریکٹر جنرل لائسنسنگ(ڈی ٹی ایچ) ڈاکٹر مختار نے بتایا کہ ڈی ٹی ایچ انتہائی اہم منصوبہ ہے اور یہ پاکستان کے قومی مفاد کیلئے بہت ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ لائسنس حاصل کرنیوالی کمپنی کے ساتھ ہم مکمل رابطے میں ہیں اور ان کو بار بار یاد دہانی کے نوٹسز بھی دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ کمپنی موجودہ لائسنس میعاد کے اندر سروسز کو شروع نہیں کرسکی ہے مزید ٹائم دینے کے حوالے سے پیمرا کی اتھارٹی کا اجلاس 14 فروری کو ہو رہا ہے مزید ٹائم دینے کے حوالے سے اتھارٹی فیصلہ دے گی گئی
تاہم کمپنی کی طرف مزید ٹائم دینے کے لیے درخواست کی ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ تین کمپنیوں میں سے ابھی صرف ایک کمپنی کو لائسنس جاری کیا گیا ہے اور اس کمپنی کو بھی لائسنس کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق اس کمپنی کے ساتھ سلوک روا رکھا جائے گا اور کوئی رعایت نہیں برتی جائیگی۔اسی حوالے سے رابطہ کرنے پر شہزاد سکائی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور سربراہ شہباز ظہیر نے بتایا کہ ہماری کمپنی پاکستان میں ڈائریکٹ ٹو ہوم(ڈی ٹی ایچ)سروسز شروع کرنے کیلئے پرعزم ہے اور ہم اس حوالے سے اقدامات کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال کے اندر سروسز شروع کرنے میں تاخیر سٹیٹ بینک کی طرف سے لیٹر آف کریڈٹ( ایل سی) کے معاملے میں ہوئی ہے اور یہ معاملہ بھی حل ہونے کے قریب ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں پہلی بار شروع ہورہا ہے اس میں قانونی اور فنی پیچیدگیاں موجود ہیں جس کو دور کرنے کیلئے ہم پیمرا کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہم اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 11 فروری 2020ءتک لائسنس کے مطابق ایک سال کے اندر ہم نے سروسز شروع کرنا تھی تاہم مزید ٹائم کیلئے ہم پیمرا لکھ دیا ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کروڑوں ٹیلی ویژن صارفین کو جدید ترین سروسز فراہم کرنے کیلئے یہ منصوبہ انتہائی اہم ہے پاکستان میں چلنے والے غیر قانونی انڈین ڈی ٹی ایچ کا بھی خاتمہ ممکن ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں میڈیا کی دنیا کیلئے بھی انتہائی اہم ہے







