لندن :برطانوی محققین نے کورونا ویکسین کا سستا متبادل دریافت کرکے انقلاب برپا کردیا،اطلاعات کے مطابق نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے علاج کے لیے دنیا بھر کے ماہرین کی جانب سے کام کیا جارہا ہے، مگر اب تک اس حوالے سے کوئی خاص کامیابی نہیں مل سکی۔
دنیا اس وقت جس آزمائش سے گزررہی ہے اورکرونا وبا کنٹرول ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی اس دوران اس کا مہنگا علاج بھی دردسربنا ہوا ہے ، اس اثنا میں اس علاج کے متبادل کے طورآنے والے ایک اسپرے نے امید کی کرن پیدا کردی ہے
کولمبیا یونیورسٹی کی جانب سے ایک نتھنوں کے اسپرے یا نیسل اسپرے کو تیار کیا جارہا ہے، جو جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانی پھیپھڑوں کے تھری ڈی ماڈل میں کووڈ 19 کی روک تھام میں کامیاب ثابت ہوا ہے۔
یہ لیپو پیپ ٹائڈ (لپڈ اور پیپ ٹائڈ کا امتزاج) کورونا وائرس کی روک تھام متاثرہ خلیے کی جھلی میں وائرل پروٹین کو بلاک کرکے کرتا ہے۔
یہ فوری طور پر کام کرتا ہے اور اس کا اثر کم از کم 24 گھنٹے تک رہتا ہے، محققین کے مطابق یہ کم قیمت، طویل عرصے تک چلنے والا اسپرے ہے، جس کے لیے فریج کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔
مگر محققین کا کہنا تھا کہ اس اسپرے کو عوام تک پہنچنے کے لیے ابھی وقت درکار ہے، کیونکہ پہلے انسانی کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہوگی جبکہ بڑے پیمانے پر پروڈکشن بھی درکار ہوگی۔مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ برق رفتاری سے مزید ٹیسٹنگ کے ذریعے پیشرفت کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
محققین کو توقع ہے کہ اس کے ذریعے وہ دنیا کے بیشتر حصوں میں لوگوں کو تحفظ فراہم کرسکیں گے جہاں بڑے پیمانے پر کووڈ 19 ویکسینیشن مشکل ہوگی۔
محققین کے خیال میں ایسے افراد جو ویکسینز سے گھبراتے ہیں یا جن پر ویکسین کارآمد نہیں ہوگی، ان کے لیے اس اسپرے کا روزانہ استعمال بیماری سے انہیں بچائے گا۔
محققین کا کہنا تھا کہ اسپرے کو فیریٹ نامی جانوروں کے 3 گروپس کے ناکوں پر مختلف مقدار میں استعمال کیا گیا۔
اس نئے طریقہ علاج کو ٹرائل کے طورپر بڑی تعداد میں لوگوں پرآزمایا گیا
پہلے کلینیکل ٹرائلز میں 7000 سے زیادہ لوگوں پر اس کا آزمایا گیا جس کے نتائج حوصلہ افزا ملے
ماہرین نے بتایا کہ توقع ہے کہ اس سے وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی شدت اور دورانیے کو کم رکھنے میں مدد مل سکے گی جبکہ ناک میں وائرل ذرات کی تعداد بھی کم ہوگی۔








