آج کا نوجوان طبقہ والدین کے نزدیک باغی ہے ۔
والدین کا نافرمان و گستاخ ہے اسکی بہت سی وجوہات ہیں ۔
نوجوان طبقہ آزادی کا خواہاں ہے جبکہ والدین اپنی اولاد کو اپنے اثرو رسوخ تلے رکھنا چاہتے ہیں ۔
والدین کے نزدیک ان کی اولاد ان کے ہاتھ سے نکل جاٸیگی جبکہ نوجوان طبقے کے نزدیک ان پہ یہ سب مسلط کیا جا رہا ہے جبکہ وہ والدین کے اس اثرورسوخ سے چھٹکارہ چاہتے ہیں ۔
اسکی دو وجوہات ہیں
پہلی وجہ یہ ہے کہ بچوں پہ غیر ضروری دباٶ ان پہ بن وجہ غصہ کرنا ان کی شخصیت پہ اثرانداز ہورہا ہے ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ بچوں پہ وہ فیصلے مسلط کرنا جو ان کے نزدیک سہی نہیں ہیں ۔
ایسا کرنا بچوں کو والدین سے باغی بنا رہا ہے ۔
بچوں کے نزدیک اب وہ بڑے ہوگۓ ہیں ان کو اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں جبکہ والدین ابھی اپنے بچوں کو نومولود بچہ ہی سمجھتے ہیں جس سے نوجوان باغی دکھاٸ دیتے ہیں کہ ان کو بڑا تصور کرتے ہوۓ اپنے من پسند فیصلے کرنے کا حق دیا جاۓ ۔
بچے غلط کمپنی کا شکار ہو رہے ہیں گھریلو پریشر کی وجہ سے تھوڑی دیر ریلیکس ہونے کے بہانے ناجانے کیا کیا کر رہے ہیں ۔
اکثر اوقات بچوں کے منہ سے یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ ان کے والدین ٹھیک نہیں ہیں ایسے والدین مر ہی جاٸیں تو اچھا ہے ۔
آخر اتنی بدتمیزی ، بے حیاٸ ، نافرمانی اور بغاوت بچوں کے ذہن میں آٸ ہی کیوں ۔؟
اس کے دو پہلو ہیں ۔
پہلا پہلو یہ ہے کہ والدین دوسروں کی باتیں سن کے جب اپنی اولاد کو دوسروں کے سامنے ڈانٹیں گے تو وہ والدین سے نفرت کرنے لگیں گے ۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ
والدین اولاد کو اہمیت دیتے ہی نہیں ہیں جس سے اولاد نافرمان و باغی ہوتی جا رہی ہے ۔
حدیث مبارکہ ہے کہ
” ماں کے پیروں تلے جنت ہے “
دوسری حدیث میں آیا ہے کہ
” باپ جنت کا دروازہ ہے “
تو کیا ہوا ایسا کہ جس ماں کے پیروں تلے جنت رکھی ہے اللہ پاک نے اور جس باپ کو جنت کا دروازہ بنایا ہے ان سے ہی اولاد عاری کیوں ہے ۔؟
اس سلسلے میں والدین کچھ رہنما اصول اپنا لیں تو شاید بغاوت کی تیزی سے بڑھتی شرح کو کنٹرول کیا جا سکے ۔
پہلا اصول
والدین اولاد کیلۓ وقت نکالیں تاکہ ان کے ساتھ بیٹھ کے ان سے ان کے معاملات زندگی بڑے تحمل سے پوچھیں ۔
دوسرا اصول
اولاد سے ان کی خوشی کے بارے میں پوچھا جاۓ تاکہ اولاد غلط فیصلے لینے سے بچ سکے کہ ان کی خوشی کس چیز میں ہے کیا جو یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے یا کیا جاۓ گا وہ ان کو منظور ہے تاکہ بچوں میں خوداعتمادی پیدا ہو اور وہ آپ کو جواب دے سکیں ۔
تیسرا اصول
بچوں سے پوچھ لیا کریں کہ مستقبل میں وہ کیا بننا چاہتے ہیں ان کا کیا کرنے کا ارادہ ہے وہ کیا کر سکتے ہیں ۔؟
دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں پہ جبری فیصلے مسلط کر دیتے بچہ کہتا میڈیکل فیلڈ میں جانا تو والدین نہیں تم انجینٸر بنو گے جس سے اس پہ پریشر پڑتا ہے اور بچہ وہ اہداف حاصل نہیں کر پاتا جس کا وہ ارادہ کیۓ ہوۓ ہوتا ہے ۔
چوتھا اصول
بچوں کی دوسروں کے سامنے بے عزتی کرنے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے سے اس میں غصے کی شدت پیدا ہوتی ہے اور وہ ایک باعزت شہری بننے کی بجاۓ انتقام پسند بن جاتا ہے جو کہ معاشرے کیلۓ ٹھیک نہیں ہے ۔
پانچواں اصول
بچوں کے ساتھ اپنا رویہ دوستانہ رکھیں تاکہ بچے والدین سے اپنی ہر اچھی بری بات شٸیر کرتے ہوۓ نہ ڈریں ۔
کٸ بلیک میلنگ کے واقعات میں بچے اس لیۓ بھی بلیک میل ہو رہے ہوتے ہیں کہ وہ والدین کو نہیں بتا سکتے کیونکہ والدین نے الٹا ان کو ہی قصوروار ٹھہرا دینا ہوتا ہے ۔
چھٹا اصول
بچوں کی نفسیات سمجھ کے ہر معاملے پہ ان کے ساتھ بات چیت کی جاۓ ان کو اچھا برا سمجھایا جاۓ رویہ نرم اور شفقت بھرا رکھا جاۓ تو بچے والدین کے مزید قریب آجاتے ہیں ۔
اگر یہی بنیادی چھ اصول آج سے ہی والدین اپنا لیں تو بچے نہ تو جھوٹ بولیں گے ناں نافرمانی کریں گے نہ باغی ہونگے نہ غلط کمپنیوں کا شکار ہونگے ۔
Shares:








