وسیم حسن راجہ کی وفات *
پاکستان کے سابق آل رائونڈر ٹیسٹ کرکٹر وسیم حسن راجہ 3 جولائی 1952ء کو ملتان میں پیدا ہوئے ۔
پاکستان کے کرکٹ کے سابق کھلاڑی۔ مشہور کھلاڑی رمیز راجہ کے بھائی۔ وسیم راجا دائیں ہاتھ سے گیند کرنے والے لیگ سپن بالر تھے جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اکاون کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ وہ گگلی بھی پھینکتے تھے اور بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ کرنے والے مڈل آڈر بلے باز تھے۔ انہوں نے کئی موقعوں پر پاکستان کی طرف سے اننگز کا آغاز یا اوپننگ بھی کی۔
ٹیسٹ کرکٹ میں ستاون ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے دو ہزار دوسو اکاسی رن بنائے اور ان کی اوسط چھتیس عشاریہ ایک چھ رہی۔ اس میں چار سنچریاں اور اٹھارہ نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔
ون ڈیز
انہوں نے چون (54) ایک روزہ میچ بھی کھیلے۔ ان کا آخری ٹیسٹ بھی نیوزی لینڈ کے خلاف انیس سو پچاسی میں آکلینڈ میں ہوا۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ بھی رہے اور انہوں نے آئی سی سی کے ریفری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
کارنامے
انہوں نے کرکٹ کی دنیا میں سب سے بڑا کارنامہ انیس سوچھہتر ستتر میں ویسٹ انڈیز کے دورے پر انجام دیا۔ انہوں نے اس سیریز میں کرکٹ کی تاریخ کے تباہ کن فاسٹ بالنگ اٹیک کے خلاف پانچ سو سترہ رن ستاون عشاریہ چار کی اوسط سے بنائے۔ اس سیریز میں پاکستان کی ٹیم کو ویسٹ انڈیز کے بہترین تیز رفتار بالر گارنر، رابرٹس اور کروفٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
سنیل گواسکر کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے دورے پر کسی بھی بلے باز نے ویسٹ انڈیز کے بالروں کے اتنی پٹائی نہیں کی تھی جتنی اس دورے پر وسیم حسن راجا نے کی۔ انیس سو تراسی چوراسی آسٹریلیا کے دورے پر جب عمران خان پاکستان ٹیم کی کپتانی کر رہے تھے تو وسیم راجا بھی اس ٹیم میں شامل تھے۔
انتقال
23 اگست 2006ء میں ایک کاونٹی میچ کے دوران میں سلپ میں کھڑے ساتھی فیلڈروں کو بتایا کہ ان کو چکر آ رہے ہیں اور میدان سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ انہیں جب میدان سے باہر لے جایا جا رہا تھا تو وہ باونڈری لائن پر انتقال کر گئے۔۔!!!








