گیس صارفین سے جے آئی ڈی سی مد میں لئے گئے 795 ارب روپے میں سے آدھے بھی حکومت کو نہ ملے.

عوام سے گیس انفراسٹریکچر ڈویلپمنٹ سس کے چارجز وصول کر کے صنعتکاروں نے حکومتی خزانے میں جمع نہیں کرائے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اہم اجلاس چیئرمین کمیٹی عبدالقادر کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیرمملکت مصدق ملک کی عدم شرکت پر ارکان شدید برہم ہوگئے۔

چیئرمین کمیٹی عبدالقادر نے کہا کہ وزیر مملکت آئندہ اجلاس میں نہ آئے تو چیئرمین سینٹ اور وزیر اعظم کو خط لکھیں گے۔ اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت بااثر صنعتکاروں سے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے مکمل واجبات وصول کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ارکان نے اسے وزارت پٹرولیم کی کوتاہی قرار دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں
حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
دستاویز کے مطابق ملک بھر کے گیس صارفین سے جی آئی ڈی سی کی مد میں 795 ارب روپے وصول کیے گئے، اور اب تک حکومت کو 346 ارب روپے جمع کرائے گئے، جب کہ ان سیکٹرز نے 448 ارب روپے ابھی تک حکومت کو نہیں دیئے۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ کیپکٹو پاور نے 54 ارب، سی این جی سیکٹر نے 82 ارب روپے اور ٹیکسٹائل کے ذمے 22 ارب روپے کے بقایا جات ہیں۔

Shares: