سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اگر کوئی ٹیکس نہ دے تو اسے جیل بھیج دینا چاہئے ،ریاست کو اپنی رٹ قائم کرنی چاہئے۔۔ان کاکہنا تھا کہ کچھ لوگوں کو جیل بھی بھیجناپڑے تو بھیجیں مگر ریاست کی رٹ قائم ہونی چاہئے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ جہاں آمدنی ہے وہاں ٹیکس لگانا چاہئے۔ ان کاکہنا تھا کہ ڈالر کے حوالے سے سٹیٹ بینک کی موجودہ حکمت عملی درست ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ابتداء میں ساڑھے 4 ہزار روپے فی دکان سے ٹیکس لینا شروع کرنا چاہیے۔ دکانداروں کی ہڑتال 2 دن بھی نہیں چلے گی، جب ایم کیو ایم پاکستان عروج پر تھی اور ہڑتال کرواتی تھی تب بھی شام کو دکانیں کھل جاتی تھیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ن لیگ کی اندرونی سیاست کی وجہ سے دکانداروں پر ٹیکس کا فیصلہ واپس لیا گیا۔ یہ کیسی حب الوطنی کہ ٹیکس نہیں دوں گا، آپ کو مٹھائی دے دوں گا؟
انکا کہنا تھا کہ بظاہر نان فائلرز کی سمز بند کرنے کا فیصلہ درست ہے، اگر آپ دکانوں پر ٹیکس نہیں لگاتے تو سب بےکار ہے، دکاندار ایک دن دکان بند کرنا افورڈ نہیں کر سکتا۔سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پی آئی اے، اسٹیل مل کو بیچ دینا چاہیے، حکومت تھوڑے شیئرز اپنے پاس رکھ لے، میں نہیں سمجھتا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ نجکاری سے بہتر ہے،انکا کہنا تھا کہ اسٹیل مل کے پاس 19 ہزار ایکڑ زمین تھی 2 ہزار ایکڑ پر غیر قانونی قبضہ ہوگیا ہے۔ اسٹیل مل نے 2 سے 4 ہزار ایکڑ پر اپنے ملازمین کی ہاؤسنگ کالونی بنائی ہے۔

بظاہر نان فائلرز کی سمز بند کرنے کا فیصلہ درست ہے،مفتاح اسماعیل
Shares:






