خیبر پختونخوا کے تین اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ کل 23 ستمبر سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق، اس مہم کا مقصد ٹانک، لکی مروت اور ڈیرا اسماعیل خان میں 6 لاکھ 72 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔محکمہ صحت نے اس مہم کے لیے 4 ہزار سے زیادہ ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جو گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی۔ ان ٹیموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے 4 ہزار 896 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔ سیکیورٹی فورسز کی یہ تعیناتی اس بات کی ضامن ہے کہ مہم کو بلا رکاوٹ اور محفوظ طریقے سے جاری رکھا جائے۔محکمہ صحت کے ترجمان نے کہا کہ یہ مہم بچوں کی صحت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے اور والدین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین کے قطرے پلانے میں تعاون کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیو ایک خطرناک مرض ہے جو بچوں کو مفلوج کر سکتا ہے، اس لیے اس کے خاتمے کے لیے ہم سب کو مل کر کوششیں کرنی ہوں گی۔صوبے میں پولیو کے کیسز میں کمی لانے کے لیے یہ مہم ایک اہم اقدام ہے، اور حکومت کی خواہش ہے کہ پولیو سے پاک پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ مہم کے دوران اپنے بچوں کو قطرے پلانے کا موقع دیں اور کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے محکمہ صحت سے رابطہ کریں۔اس کے علاوہ، انسداد پولیو مہم کے دوران آگاہی پیدا کرنے کے لیے مختلف سرگرمیاں بھی کی جائیں گی، تاکہ لوگ پولیو کے خطرات اور ویکسین کی اہمیت کے بارے میں آگاہ ہوں۔محکمہ صحت کی جانب سے عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مہم کے دوران اپنی صحت کے متعلق تمام معلومات کو سنجیدگی سے لیں اور پولیو سے بچاؤ کی ویکسینیشن کو ہر صورت یقینی بنائیں۔

Shares: