امریکی کانگریس کے 119 ویں اجلاس میں ریپبلکن رکن مائیک جانسن کو اسپیکر منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ تاریخی انتخاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ 100 سال میں سب سے کم مارجن سے ہونے والا اسپیکر کا انتخاب ہے۔ جانسن کی کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ان کی حمایت سے جانسن کی پوزیشن مستحکم ہوئی اور ٹرمپ کی سیاسی عزت بھی بچ گئی۔
مائیک جانسن اس سے قبل بھی اسپیکر کے طور پر کام کر چکے ہیں، اور اب دوسری بار اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔ جمعہ کے روز ہونے والی ووٹنگ میں جانسن کو جیت کے لیے سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کی اپنی پارٹی کے کچھ ارکان نے ان کے حق میں ووٹ دینے سے انکار کیا تھا۔ ان ارکان میں وہ شامل تھے جو جانسن کے ساتھ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر قانون سازی کرنے پر ناراض تھے۔امریکی ایوان نمائندگان میں 435 ارکان کی تعداد ہے۔ ریپبلکنز کے پاس 219 ارکان ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 215 ارکان ہیں۔ جب ووٹنگ شروع ہوئی تو تمام 215 ڈیموکریٹس نے اپنے امیدوار حکیم جیفریز کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم، ریپبلکنز کے تین ارکان نے جانسن کے حق میں ووٹ دینے سے انکار کیا، جس کی وجہ سے ووٹنگ کا نتیجہ انتہائی قریب آیا۔ ان میں سے دو ارکان کی ناراضگی دور کرکے جانسن نے دوسری بار اسپیکر کا عہدہ جیت لیا۔
انتخابات کے بعد ریپبلکن رکن رالف نارمن نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے جانسن کے ساتھ بند کمرے میں بات کرنے کے بعد اپنا ووٹ تبدیل کیا۔ اگر جانسن شکست کھاتے تو یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اور شرمندگی ہوتی۔ اس بات کا امکان تھا کہ اگر ٹرمپ نے جانسن کی حمایت نہ کی ہوتی تو ان کی پوزیشن کمزور ہو جاتی کیونکہ کچھ اعتدال پسند ریپبلکن دیگر آپشنز پر غور کرنے لگے تھے۔ 100 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے کم مارجن سے اسپیکر منتخب کیا گیا۔
مائیک جانسن نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے اسپیکر بننے کے لیے کسی سے وعدے کیے ہیں۔ جانسن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے مخالفین، کیتھ سیلف اور رالف نارمن سے ان کے ووٹ پلٹنے کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ان اپوزیشن ارکان کو قائل کیا کہ وہ جانسن کو ووٹ دیں تاکہ وہ کامیاب ہو سکیں،ابتدائی طور پر تین ریپبلکن ارکان نے جانسن کے بجائے دیگر امیدواروں کو ووٹ دیا۔ ان میں میسی، رالف نارمن اور کیتھ سیلف شامل تھے۔ یہ صورتحال اتنی پیچیدہ ہوگئی کہ جانسن کو ایوان میں واپس آنا پڑا اور اپنے مخالفین کو قائل کرنے کے لیے سخت لابنگ کرنی پڑی۔ تقریباً 45 منٹ کی مداخلت کے بعد، نارمن اور سیلف نے اپنے ووٹ تبدیل کیے اور جانسن کی حمایت کی۔
مائیک جانسن کا اسپیکر بننا امریکی سیاست کے لیے اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ 6 جنوری کو کانگریس میں صدر ٹرمپ کی کامیابی کی توثیق ہونی ہے، اور اسپیکر کی غیر موجودگی میں آئینی بحران پیدا ہو سکتا تھا۔ جانسن کا اسپیکر بننا اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ ٹرمپ کی ٹیکس کٹوتیوں اور دیگر بڑے ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے ایوان کو مضبوطی سے ہموار کر سکیں۔اس اہم ووٹنگ کے دوران سابق ڈیموکریٹک اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی حصہ لیا اور 84 سال کی عمر میں، کولہے کی ہڈی ٹوٹ جانے کے باوجود، ایوان میں آ کر حکیم جیفریز کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ ایک اہم سیاسی پیغام تھا کیونکہ پیلوسی نے اپنی طویل سیاسی زندگی میں ہمیشہ پارٹی کے مفادات کے لیے کام کیا ہے۔
مائیک جانسن کی اسپیکر منتخب ہونے کے بعد ایوان میں ان کی قیادت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن ان کی جیت نے ایک اہم سیاسی پیغام دیا ہے کہ ریپبلکنز پارٹی میں دراڑیں موجود ہیں لیکن ایک واضح قیادت کی ضرورت بھی ہے۔ جانسن کے لیے یہ چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے، کیونکہ انہیں ایوان میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے ایجنڈے کو بھی کامیاب بنانا ہے۔
خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام
ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ








