کراچی: مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ملزم ارمغان کو حوالہ ہنڈی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کی مدعیت میں ملزم کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ سرکل میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق، ملزم ارمغان حوالہ ہنڈی اور ڈیجیٹل کرنسی سمیت مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ ایف آئی آر کی تفصیلات کے مطابق، ملزم جعلسازی سے ہر ماہ تقریباً تین سے چار لاکھ ڈالر کماتا تھا، جنہیں وہ ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرتا تھا۔ اس کے پاس موجود گاڑیاں بھی ان ڈیجیٹل کرنسی کی رقم سے خریدی گئی تھیں۔مقدمے میں انکشاف کیا گیا کہ ملزم ارمغان نے اپنے دو ملازمین کے نام پر بینک اکاؤنٹس کھلوائے تھے اور اپنے کال سینٹر سے امریکی شہریوں سے اہم معلومات حاصل کرتا تھا۔ ان معلومات کی بنیاد پر فراڈ کے ذریعے امریکی شہریوں سے پیسہ بٹورا جاتا تھا۔ فراڈ کی یہ رقم ملزم ارمغان تک پہنچتی تھی، جو اس کے غیر قانونی کاروبار کا حصہ تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق، ملزم ارمغان نے 2018 میں اپنے غیر قانونی کال سینٹر کا آغاز کیا تھا۔ اس کال سینٹر سے روزانہ 5 افراد کے ساتھ جعلسازی کی جاتی تھی اور اس کا نیٹ ورک منظم انداز میں چلایا جا رہا تھا۔ ملزم کے پاس کروڑوں روپے مالیت کی تین گاڑیاں تھیں، جن میں سے پانچ گاڑیاں وہ فروخت کر چکا تھا۔ ارمغان نے اپنے والد کے ساتھ مل کر امریکا میں ایک کمپنی بھی قائم کی تھی، جو حوالہ ہنڈی کے کاروبار کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
یاد رہے کہ مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو اغوا کیا گیا تھا اور ایک ماہ بعد 8 فروری کو پولیس نے کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان مومن میں ایک بنگلے پر چھاپہ مارا تھا۔ چھاپے کے دوران پولیس پر فائرنگ کی گئی تھی، جس میں ڈی ایس پی سمیت تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس نے ملزم ارمغان کو حراست میں لیا تھا، جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے اپنے ساتھی شیراز کے ساتھ مل کر مصطفیٰ عامر کو اغوا کیا اور پھر اسی کی گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لے جا کر جلا دیا تھا۔یہ کیس ابھی تحقیقات کے مراحل میں ہے اور مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔







