پہلگام، جنوبی کشمیر میں 22 اپریل کو حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد سے مفرور چارحملہ آوروں کے بارے میں تازہ معلومات سامنے آئی ہیں۔ نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ذرائع کے مطابق یہ چاروں افراد اب بھی علاقے میں چھپے ہوئے ہیں اور انہوں نے فوج اور مقامی پولیس کی جانب سے چلائے گئے وسیع پیمانے پر آپریشنز سے بچنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

این آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چاروں افراد "خود مختار” ہو سکتے ہیں، یعنی ان کے پاس خوراک اور دیگر ضروریات کی فراہمی کا سامان ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گھنے جنگلات میں چھپ کر رہنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ این آئی اے نے اس حملے کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں، جو حالیہ برسوں میں بھارت میں ہونے والا سب سے بھیانک حملہ ہے، خصوصاً 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد، جس میں 40 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آوروں نے پہلگام میں واقع بایسران ویلی میں حملے سے کم از کم 48 گھنٹے پہلے موجودگی کا آغاز کر دیا تھا۔ این آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) یا حملہ آوروں کے ہمدردوں کو جو اس حملے کے بعد پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا گیا تھا، ان کے بیانات میں انکشاف ہوا کہ حملہ آوروں نے بایسران ویلی کے علاوہ دیگر چار مقامات کی بھی سروے کیا تھی، تاہم، ان تمام مقامات پر سیکیورٹی زیادہ تھی،

پہلگام حملے کے بعد بھارتی اپوزیشن کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ آیا فوج کی موجودگی کی کمی نے حملہ آوروں کو حملہ کرنے کا موقع دیا۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ حملہ آوروں کے پاس جدید کمیونیکیشن سامان تھا، جو کسی بھی قسم کے انٹرسیپٹ سے بچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ایک دفاعی ماہر، میجر جنرل یش مور (ریٹائرڈ) نے بتایا تھا کہ حملہ آوروں نے جو آلات استعمال کیے وہ سیٹلائٹ فونز تھے، جو سم کارڈز کے بغیر کام کرتے تھے اور ان کا مقصد اپنے مقام کو چھپانا تھا تاکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کو حملے کے آغاز تک بے خبر رکھا جا سکے۔

حملے کی منصوبہ بندی سادہ تھی – تین حملہ آوروں نے بایسران کے ارد گرد چھپ کر سیاحوں پر فائرنگ کی، جب کہ چوتھا حملہ آور چھپ کر ان کی مدد کے لیے موجود تھا، حملہ 1:15 بجے دوپہر شروع ہوا، جس میں 26 افراد کی ہلاکت ہوئی۔اس کے بعد کی تحقیقات اور حملہ آوروں کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں لیکن ابھی تک بھارت کو ناکامی ہی ملی ہے

Shares: