اسرائیلی عوام کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل کی جارہی ہے-
اسرائیلی فوج اور حکومت کی جانب سے اگرچہ مسلسل برتری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، خاص طور پر فضائیہ کی جانب سے، جو ایرانی فضائی حدود میں باآسانی میزائل داغنے اور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن عوامی سطح پر ایک اور قسم کی بحث جاری ہے خدشہ یہ ہے کہ اگر امریکہ نے براہ راست ایران پر حملہ نہ کیا، تو یہ جنگ ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جو نہ صرف مہنگی بلکہ ناقابل برداشت بھی ہو گی۔
اس خدشے کا اندازہ تل ابیب کی سڑکوں پر لگے ان بل بورڈز سے بھی ہوتا ہے، جن میں امریکی صدر سے صاف الفاظ میں مطالبہ کیا جا رہا ہے: “Finish the Job” – کام مل کرو، یعنی ایران پر فیصلہ کن حملہ کریں تاکہ جنگ جلد ختم ہو۔
ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اس جنگ کے دورانیے پر کوئی واضح بات نہیں کی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کئی ہفتے یا مہینے تک بھی جاری رہ سکتی ہے، جو اسرائیل کے لیے سیاسی، عسکری اور معاشی طور پر شدید دباؤ کا باعث بنے گی۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع اور ایک دوسرے پر حملوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، تاہم صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔
دونوں ممالک کی جانب سے حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان دونوں طرف ہو رہا ہے، لیکن سوشل میڈیا اور دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسرائیل کی صورتحال پر مرکوز ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے غزہ پر حملے کرتا رہا ہے، جب کہ یہ پہلا موقع ہے کہ خود اسرائیل کو خوف اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سیاسی رہنما ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، تجزیہ: شہزاد قریشی
بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی متعدد فوٹیجز گردش کر رہی ہیں، جن میں اسرائیلی شہریوں کو زیرِ زمین بنکرز میں پناہ لیتے اور ایرانی میزائلوں سے خوفزدہ دکھایا گیا ہے-








