سیالکوٹ (بیوروچیف خرم میر) ڈسکہ میں اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد غیر قانونی سٹینڈز کو سیل کیا گیا اور بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ تاہم شہری حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی کہاں کی گئی؟ کیونکہ ڈسکہ شہر میں تاحال متعدد مقامات پر پورے اختیارات کے ساتھ غیر قانونی طور پر منی پٹرول پمپس کام کر رہے ہیں۔
زیر نظر تصویر سمبڑیال روڈ کی ہے جہاں چوک کے عین وسط میں کئی مہینوں سے یہ خطرناک اور غیر قانونی کاروبار زور و شور سے جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر بار وقتی کارروائی کے بعد یہ پمپس بند تو کر دیے جاتے ہیں، مگر چند دنوں بعد دوبارہ کھل جاتے ہیں جیسے انہیں کسی ’’پوشیدہ ہاتھ‘‘ کی پشت پناہی حاصل ہو۔
شہریوں نے اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی قسم کی سیاسی یا بااثر سفارشات رکاوٹ نہیں تو برائے مہربانی شہر کے اندر موجود ان غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف مؤثر اور مستقل کارروائی کی جائے تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ چلتے پھرتے منی پٹرول بم ہیں جو کسی بھی لمحے دھماکہ خیز سانحے کا باعث بن سکتے ہیں۔ شہریوں کی قیمتی جانیں داؤ پر لگی ہیں، اس لیے وقتی اقدامات کی بجائے مکمل اور مربوط حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔








