fbpx

سینیٹ کمیٹی برائے سمندر ی امور کا اجلاس،کمیٹی سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت

۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت سمندری امور اور اس سے منسلک محکموں کے مختص کردہ بجٹ اور اس کے استعمال کا جائزہ، وزارت سمندری امور کی تجویز کردہ پی ایس ڈی پی اور اس سے منسلک محکموں کی مالی سال 2021-22،کے علاوہ کمیٹی کے 31 اگست 2020 کے اجلاس میں ہدایت کی روشنی میں گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان کو بقیہ اراضی کی شرح کو حتمی شکل دینے اور بقایاجات کی ادائیگی کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نزہت صادق نے وزارت سمندری امور کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کی تعمیر وترقی میں وزارت سمندری امور کا ایک اہم کردار ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے گوادر میں مکمل ہونے والے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعریف کی اور کہا کہ گوادر میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کرکٹ اسٹیڈیم تیار ہوا ہے جس کی پذیرائی نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا بھر میں ہوئی ہے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے سمندری امور علی زیدی نے کہا کہ نئی فشرنگ پالیسی لا رہے ہیں اور اس پالیسی کے تحت ہمارا ہدف2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہے جبکہ اس وقت 400 سے450 ملین ڈالر ہماری ایکسپورٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک نیا وزل مانیٹرنگ سسٹم کشتیوں پر لگانے جا رہے ہیں اور اس طرح ہم ہر کشتی کو مانیٹر کر سکیں گے اور اس کیلئے ہم نے ایک سمری کابینہ میں لے کر جا رہے ہیں اس کی منظوری کے بعد ہم ہر چھوٹی بڑی کشتی کی مانیٹرنگ با آسانی کر سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک ماہی گیر کو بھی کامیاب نوجوان پروگرام کے ذریعے قرضہ دیا جائے گا اس کیلئے پالیسی تیار ہے اور بہت جلد اس کو کابینہ سے منظور کرا لیا جائے گا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت سمندری امور کے حکام نے وزارت اور اس سے منسلک محکموں کا بجٹ 1157.716 ملین مختص کیا گیا تھا اور وزارت سمندری امور سے منسلک تمام محکموں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا اور وزارت سمندری امور کے منصوبہ جات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
کمیٹی اجلاس میں وزارت سمندری امور کی گوادر پورٹ اتھارٹی کے حوالے سے تجویز کردہ پی ایس ڈی پی کے مالی سال 2021-22 کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے کمیٹی کوبریفنگ دی اور گوادر میں جاری منصوبہ جات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ 31 اگست 2020 کو منعقدہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی ہدایت کی روشنی میں گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان کو بقیہ اراضی کی شرح کو حتمی شکل دینے اور بقایاجات کی ادائیگی کے بارے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر گوادر کی جانب سے ایک سروے کیا گیا تھا جس میں مکمل ریکارڈ نہیں لیا گیا تاہم ایک مشترکہ سروے کیا جارہا ہے جو کہ ایک ہفتے میں مکمل ہو جائے گا۔ حکام نے کمیٹی کو یقینی دہانی کرائی کہ جن لوگوں کی زمین اس منصوبے میں آرہی ہے ان کو ادائیگی کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز رانا محمود الحسن، ستارہ ایاز کے علاوہ وفاقی وزیر برائے سمندری امور علی زیدی کے وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.