fbpx

پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ مؤخر ہونے پر اپوزیشن کی نئی حکمت عملی تیار

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب اسمبلی 15 دسمبر کو تحلیل کرنے کے فیصلے پر اپوزیشن نے نئی سیاسی حکمت عملی تیار کرلی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کا پنجاب اسمبلی 15 دسمبر کے بعد تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی انتظار کرو اور دیکھوں کی پالیسی پر چلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سیاسی کارڈ سینے سے لگالیے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ پندہ دسمبر تک مؤخر ہونے کے فیصلے کے پیش نظر اپوزیشن نے وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد لانے اور گورنر کی طرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔

آزاد کشمیر بلدیاتی انتخابات:نتائج آنے کا سلسلہ جاری:حکمران جماعت کوشکست

دوسری جانب لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان سنجیدہ ہیں تو حکومتی اتحاد مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر یہ کسی شرط کے بغیر ہوں گے۔ماڈل ٹاؤن میں لیگی رہنماؤں کے اہم اجلاس میں شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان اسمبلیاں توڑنے کی خواہش پوری کرلیں، جہاں اسمبلی توڑیں گے وہاں الیکشن ہوجائیں گے۔

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی جے یو آئی میں شامل

انہوں نے کہا کہ عمران خان سنجیدہ ہیں تو مذاکرات کیلیے تیار ہیں، چاہتے ہیں معاملہ بگڑنے کے بجائے بہتری کی طرف آئے، مذاکرات کسی پیشگی صورت کے بغیر ہوں گے، مل کر مسائل حل کرنے کا نام ہی سیاست ہے، ملکی مستقبل کے فیصلے سیاستدانوں کو ہی کرنے ہیں اور سارے کام آئین و قانون کے مطابق ہی ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کب ہونا ہے اس سے متعلق واضح ہوجائے گا، ہم کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، سب کو ملکر ملک کا سوچنا ہوگا۔

برادراسلامی ملک افغانستان کےبچوں کی تعلیم وتربیت کےلیےپاکستان ہرممکن تعاون جاری…

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم اسمبلی تحلیل اور مذاکرات کے معاملے پر عمران خان کی پیش کش کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سے بھی مشاورت کریں گے اور حتمی مشاورت کے بعد عمران خان کی پیش کش پر پالیسی بیان جاری کیا جائے گا۔