ایک پاکستانی نے ایک ارب ڈالرز سعودی عرب سے برطانیہ منتقل کئے تاکہ کوئی پکڑ نہ سکے:وزیراعظم کا انکشاف

اسلام آباد:ایک پاکستانی نے ایک ارب ڈالرز سعودی عرب سے برطانیہ منتقل کئے تاکہ کوئی پکڑ نہ سکے،ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تحت ای بڈنگ، ای بلنگ اور جی آئی ایس میپنگ کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا

عمران خان نے کہا کہ حکومت پاکستان نے براڈ شیٹ سے کہا کہ وہ ہمارے ملک میں موجود بدعنوان لوگوں کی تحقیقات کرے، ان کے سربراہ کا انٹرویو سنا جس میں انہوں نے بتایا کہ کیسے پاکستان سے پیسہ چوری کرکے باہر لے جایا گیا، وزیراعظم اور وزراءیہ کام کر رہے تھے، جب اعلیٰ سطح پر کرپشن ہو تو سارا نظام کرپٹ ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سب سے بڑا ظلم کرپشن کو قابل قبول بنانا ہے، برائی کو برائی نہ سمجھنا ہے، کرپشن سے بڑے لوگ امیر سے امیر تر بن جاتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک پاکستانی نے سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر برطانیہ کے بینک میں منتقل کئے، ہمارا ملک غریب ہے لیکن لوگ امیر ہوئے تاہم ملک ترقی تب کرتا ہے جب ملک امیر ہو، امیر ملکوں کا رہن سہن بھی دیکھیں اور غریب ملک پاکستان کے لوگوں کا بھی رہن سہن دیکھیں تو وہ امیر ملک غریب لگیں گے، ان کے سربراہوں کے مقابلہ میں ہمارے سربراہان حکومت اقوام متحدہ جاتے ہیں تو وہ مہنگے ترین ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کی سب سے بڑی خوبی وہاں کے سربراہ کی سادگی تھی، کسی نے محلات نہیں بنائے، وہ غریبوں پر پیسہ خرچ کرتے تھے، پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا خواب تھا تاہم جب تک ہم واپس اس سادگی کے نظریہ پر نہیں آتے اﷲ کی مدد شامل نہیں ہو گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ سب سے زیادہ کرپشن شاہراہوں کی تعمیر میں ہوتی ہے، اگر یہاں تبدیلی آئے گی تو دوسرے ادارے بھی بدلیں گے۔ ایف بی آر کو جولائی تک مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی ڈیڈ لائن دی ہے، ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن سے ٹیکس محصولات بڑھیں گے، زائد پیسہ آئے گا تو صحت و تعلیم پر صرف کر سکیں گے، اصل سرمایہ کاری انسانوں پر خرچ کرنا ہے، ایسے ہی فلاحی ریاست بنے گی، کرپشن کا خاتمہ ہو گا تو زیادہ پیسہ آئے گا، اس سے انفراسٹرکچر کو وسعت دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دیگر وزارتوں پر بھی دبائوبڑھائیں گے تاکہ وہ ای گورننس کی طرف آئیں، تمام وزارتوں اور اداروں کو آنے والی گرمیوں تک کی ڈیڈ لائن دی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.