تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے کے الزام میں پروفیسر محمد شاہد کو معطل کردیا گیا

الہ آباد :تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے کے الزام میں پروفیسر محمد شاہد کو معطل کردیا گیا ،اطلاعات کے مطابق الہ آباد سینٹرل یونیورسٹی نے تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے کے الزام میں سینئر پروفیسر محمد شاہد کے خلاف بڑی کار روائی کی ہے۔ الہ آباد یونیورسٹی انتظامیہ نے پروفیسر محمد شاہد کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا ہے۔

تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے کے الزام میں پروفیسر محمد شاہد الہ آباد یونیورسٹی سے ہوئےمعطلالہ آباد سینٹرل یونیورسٹی نے تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے کے الزام میں سینئر پروفیسر محمد شاہد کے خلاف بڑی کار روائی کی ہے۔ الہ آباد یونیورسٹی انتظامیہ نے پروفیسر محمد شاہد کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا ہے۔

الہ آباد سینٹرل یونیورسٹی نے تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے کے الزام میں سینئر پروفیسر محمد شاہد کے خلاف بڑی کار روائی کی ہے۔ الہ آباد یونیورسٹی انتظامیہ نے پروفیسر محمد شاہد کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے با قاعدہ طور پر پروفیسر شاہد کی معطلی کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے ۔گذشتہ یکم اپریل کو الہ آباد کے تبلیغی مرکز سے 30؍سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ گرفتار شدگان میں 16؍ غیر ملکی افراد بھی شامل تھے۔اس گرفتاری کے چند دنوں بعد ہی پروفسیر محمد شاہد کو ان کی اہلیہ سمیت پولیس نے رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا ۔

پولیس کا الزام تھا کہ انہوں نے نظام الدین تبلیغی مرکز میں ہونے والے مذہبی اجتماع میں شرکت کی تھی ۔پروفیسر شاہد پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے تبلیغی مرکز سے اپنے رابطے کی بات پولیس سے پوشیدہ رکھی اور غیر ملکی تبلیغی افراد کو پناہ دینے میں مدد بھی کی تھی۔

پولیس نے پروفیسر شاہد کے خلاف الہ آباد کے خلد آباد اور شاہ گنج تھانے میں وبائی امراض ایکٹ اور فار نرس ایکٹ کے تحت ایف آر درج کرائی ہے ۔پروفیسر محمد شاہد کو حراست میں لینے کے بعد ان کو کورنٹین کر دیا گیا تھا ۔کورنٹین میں مدت گذرانے کے بعد پولیس نے 21؍ اپریل کو ان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے ۔پروفیسر شاہد کے جیل جانے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یونیورسٹی کے حکم نامے کے مطابق پروفیسر محمد شاہد کی معطلی کا نفاذ 21؍ اپریل سے مانا جائے گا ۔

الہ آباد یونیورسٹی کے افسر برائے رابطہء عامہ ڈاکٹر سیلیش مشرا کا کہنا ہے کہ پروفیسر محمد شاہد کے خلاف دو مختلف پولیس تھانوں میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ڈاکٹر سیلیش مشرا کے مطابق پروفیسر محمد شاہد کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ یو جی سی کی گائڈ لائن اور یونیورسٹی کے ضابطہء اخلاق کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

گذشتہ 21؍اپریل کو تبلیغی جماعت کے 30؍ ارکان کے ساتھ محمد شاہد کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا ۔عدالت نے تمام افراد کو14؍ دنوں کی عدالتی تحویل میں جیل بھیجنے کا حکم سنایا ۔پروفیسر شاہد سمیت تمام جماعتیوں کو شہر سے باہر گو ہنیا گاؤں میں بنائی گئی عارضی جیل میں رکھا گیا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.