ورلڈ ہیڈر ایڈ

29 سال قبل بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں‌ کا قتل، یاسین ملک کو ایک اور جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کی کوششیں

بھارتی ایجنسیوں نے 29 سال قبل قتل ہونے والے ہندوستانی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل کے الزام میں‌ جموں‌ کشمیر لبریشن فرنٹ‌ کے چیئرمین اور معروف کشمیری لیڈر محمد یٰسین ملک کو پھنسانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آر ٹی ٹی وی نے آج اس سلسلہ میں ایک تازہ رپورٹ نشر کی ہے جبکہ تین دن قبل جموں کشمیر کی انسداد دہشتگردی کی عدالت (ٹاڈا) نے جے کے ایل ایف لیڈر یاسین ملک کے خلاف 29 سال قبل بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں کے قتل کے مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع کردی ہے، رواں سال مارچ میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی عائد کی گئی تھی،

بھارتی میڈیا کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ یٰسین ملک پر بھارتی فضایہ کے چار اہلکاروں کے قتل اور اس وقت کے انڈیا کے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سعید کے اغوا کے الزامات ہیں، اسی طرح ایک رپورٹ میں 1989 میں کشمیری پنڈتوں کے قتل کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے، ہندوستانی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ 29 سال بعد پیش کیا جا رہا ہے،اس کیس کی پیروی کرنے والے سرکاری وکیل پوتر سنگھ بھاردواج نے صحافیوں کو بتایا کہ جے کے ایل ایف لیڈر کے خلاف مقدمہ اب اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا، میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر جب ان سے جب پوچھا گیا کہ اس مقدمے کی سماعت میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ملزم اتنے عرصے تک کیس کو ملتوی کرانے کی حکمت عملی اپناتا رہا،اسے سیاسی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.