آبی جزائر وفاقی تحویل میں لینے کے معاملے پر عدالت کا بڑا حکم

آبی جزائر وفاقی تحویل میں لینے کے معاملے پر عدالت کا بڑا حکم

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے آبی جزائر وفاقی تحویل میں لینے کے معاملے پر عدالت نے وفاقی حکومت سے تحریری جواب طلب کرلیا۔

سندھ کے آبی جزائر کی وفاقی تحویل میں لینے کے معاملے پر پاکستان آئرلینڈ ڈپولیمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020 کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت سماعت کے دوران وفاقی حکومت سے 27 جنوری تک جواب طلب کرلیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کا موقف ہے کہ آرڈیننس کی مدت پوری ہوچکی ہے، مدت پوری ہونے پر آرڈیننس غیر موثر ہوچکا، وفاقی حکومت سے تحریری جواب کےلیے مہلت دی جائے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کی مدت مکمل ہونے کے بعد درخواست بھی غیر موثر ہوچکی، دو ستمبر 2020 کو آرڈیننس لایا گیا تھا، جزائر وفاقی تحویل میں لینے کے خلاف شہاب اوستونے درخواست دائر کی۔

قبل ازیں سندھ کے اراکین قومی اسمبلی کے بعد بلوچستان کے اراکین قومی اسمبلی نے جزائر کے متعلق صدر عارف علوی کے آئی لینڈ ڈولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے خلاف قرارداد قومی اسمبلی میں جمع کرادی ہے۔

قبل ازیں پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی آئی لینڈ اتھارٹی کے قیام کی مخالفت کرتی ہے، سندھ کےساحلوں سےمنسلک جزائر پرغیر قانونی دعویٰ کی مخالفت کرینگے۔ آئی لینڈ اتھارٹی سےمتعلق صدارتی آرڈیننس ناقابل قبول ہے، آئی لینڈ اتھارٹی آرڈیننس مودی کےمقبوضہ کشمیر میں اقدام جیسا ہے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی نے آئی لینڈ آرڈیننس کو روکنے کے لئے سندھ اسمبلی سےمتبادل قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ یہ جزائر حکومت سندھ کی ملکیت ہیں، کسی بھی آرڈینس کے ذریعے سندھ کی زمین پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا، آئی لینڈ کی زمین سندھ کی ہے اور اس پر سندھ کے عوام کا حق ہے، سندھ میں موجود جزیروں پر مقامی ماہی گیروں اور دیگر آبادیوں کا حق ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.