آئین میں اختلاف رائے پر کوئی نااہلی نہیں ہوتی،سپریم کورٹ کے ریمارکس

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سےکرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پرسماعت ہوئی

رضا ربانی نے کہا کہ آرٹیکل 226 دوبارہ اسمبلی کے ایجنڈے پرآ چکا،ایوان میں آرٹیکل 226 میں ترمیم کابل زیرالتوا ہے،1962کا آئین صدارتی نظام کے حوالے سے تھا،1962 کے آئین میں بھی خفیہ ووٹنگ کی شق شامل تھی، 1962کے آئین میں بھی خواتین کی نشستوں پربھی خفیہ ووٹنگ ہوتی ہے،آرٹیکل 20 کے تحت کسی بھی کیس میں فریق کا حق ہے کہ اسے سنا جائے، مسنگ پرسنز اس آئینی حق سے محروم کیوں ہیں؟ اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھے لوگوں کو نوٹسزکیے گئے، مسنگ پرسنزبازیاب نہیں ہوسکے،

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ آئین موجود ہے مگر عملدرآمد نہیں ہو رہا؟ رضا ربانی نے کہا کہ بارکوڈ لگانے کی بات کی گئی، تلخ حقیقت یہ ہے کہ ڈیپ اسٹیٹ کی رسائی بیلٹ پیپرتک ہوتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایسا کوئی معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ہے، بارہا پوچھا کیا کرپٹ پریکٹسز پرکوئی کارروائی ہوئی آج تک؟ جواب نہیں ملا، رضا ربانی نے کہا کہ اگر بیلٹ پیپر قابل شناخت ہے تو اس کے بہت سے مسائل ہیں، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ عمل آئین کے آرٹیکل 226 کی خلاف ورزی ہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بیلٹ پیپر پولنگ اسٹیشن پر ہی سیل کیے جاتے ہیں، رضا ربانی نے کہا کہ سیل کرنےکے باوجود ڈیپ اسٹیٹ کی ان تک رسائی ہوتی ہے،یہ آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں اس بنا پر بھی ووٹ قابلِ شناخت نہیں ہونا چاہیے،قابل شناخت بیلٹ پیپر سے نئی بلیک میلنگ اورہارس ٹریڈنگ شروع ہو جائیگی، عدالت اچھی طرح جانتی ہے کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہاں وڈیو بننے میں کتنی دیرلگتی ہے، سامنے آئی وڈیو میں میں ہوں یا نہیں اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، وڈیو بن جاتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم بے شک جس دنیا میں رہتے ہیں وہ پرفیکٹ نہیں،مگر بالآخرانصاف کا بول بالا ہوتا ہے؟

رضا ربانی نے کہا کہ جب تک کوئی سپریم کورٹ پہنچتا ہے تب تک اس کی شہرت مٹی میں مل چکی ہوتی ہے،انسان خودکشی پر مجبور ہوجاتا ہے،

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پاکستان کا آئین آئرلینڈ کے دستور سےمماثلت رکھتا ہے ،وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ کےا لیکشن پرآرٹیکل 63 اے کا اطلاق بھی ہوتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 1962 کے آئین میں تو خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی خفیہ ووٹنگ ہوتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ 1962کے آئین کی خفیہ ووٹنگ والی شق کی عدالت نے 1967 میں تشریح کی تھی،

رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ لیکشن میں پارٹی امیدوار کو ووٹ نہ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی ،لازمی نہیں کہ صوبائی اسمبلی میں اکثریت لینے والی جماعت کی سینیٹ میں بھی اکثریت ہو،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انتحابی اتحاد کبھی خفیہ نہیں ہوتے، جہاں کسی انفردای شخص سے اتحاد ہو وہاں خفیہ رکھا جاتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جس کی چھ نشستیں بنتی ہوں اسے دو ملیں تو نتیجہ کیا ہو گا؟ کیا کم نشستیں ملنے پر متناسب نمائندگی کے اصول کی خلاف ورزی نہیں ہو گی؟ رضا ربانی نے کہا کہ ایم کیوایم سینیٹ کے لیے پی ٹی آئی کو ووٹ دے گی ،

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیں گے،سیاسی اتحاد خفیہ نہیں رکھے جائیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اختلاف رائے کرنے والوں سے بھری پڑی ہے اختلاف رائے کرنے والے نتائج کی پرواہ نہیں کرتےڈکٹیٹر کے خلاف بھی لوگوں نے کھل کر اختلاف رائے کیا،آئین میں اختلاف رائے پر کوئی نااہلی نہیں ہوتی،

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جس سسٹم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں وہ انفرادی ہیروازم کو فروغ دیتا ہے، جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ پارٹی سسٹم مضبوط ہو، جب تک طریقہ کار میں تبدیلی نہیں لائیں گے جمہوریت کی مضبوطی خواب رہے گی،ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس حوالے سے بھی دلائل دیں،

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سلسلہ آج سے نہیں بلکہ شروع سے جاری ہے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل 12 بجے تک ملتوی کردی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.