fbpx

‏عالمی سیاست اور پاکستان کو درپیش خطرات! تحریر: ایمان ملک

وہ ریاستیں جو عالمی سیاست کے گہرے پانیوں میں قومی مفاد کو بالائے طاق رکھتی ہیں اور خاص طور پر دوسروں کے تنازعات میں بے جا الھجنے کی بجائے اپنے لئے ایک قابل و مؤثر خارجہ پالیسی کے انتخاب کو ترجیح دیتی ہیں دور حاضر کے چیلنجز میں صرف وہی کامیاب ہونگی۔ بدقسمتی سے ، ماضی قریب و بعید میں متعدد پاکستانی حکومتیں اس طرح کے اقدامات کو اپنانے میں ناکام رہی ہیں ، مثال کے طور پر، افغانستان پر سوویت حملے کے بعد ملک کو سرد جنگ کی سیاست میں دھکیلنا اور ساتھ ساتھ پاکستان کو افغانی دلدل میں دھنسانا اور تو اور بدلے میں تیس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ بنا کسی عالمی امداد کے بلا چوں چراں اپنے ناتواں کندھوں پر قبول کرنا وہ چند چیدہ چیدہ غلطیاں ہیں جن کی بڑی بھاری قیمت ہم تا حال ادا کر رہے ہیں۔
اب جبکہ خطے میں ایک اور جغرافیائی سیاسی محاذ آرائی (مغربی کیمپ بمقابلہ چین کی صورت میں) سامنے آرہی ہے تو پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے ضمن میں کچھ سخت انتخابات کرنے اور فیصلے لینے کی اشد ضرورت محسوس ہوگی۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے رواں ہفتے منگل کے روز چینی ریاست کے نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کو بتایا کہ پاکستان کسی بھی بیجنگ مخالف گروپ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔ پاکستان کے "سب کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے چاہئیں” ، عمران خان نے چینی میڈیا کو مزید بتایا ، کہ اسلام آباد اور بیجنگ کے مابین تعلقات بہت گہرے ہیں۔

عمران خان نے انٹرویو میں ابھرتی ہوئی بیلڈ بیک بیٹر ورلڈ (بی 3 ڈبلیو) اسکیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ”عجیب ، زبردست دشمنی” ہے جس کو حال ہی میں جی 7 کی صنعتی مغربی ریاستوں (اور جاپان) کے بلاک نے شروع کیا ہے۔ جیسا کہ امریکی عہدیداروں نے ریکارڈ پر کہا ہے ، یہ منصوبہ چین کے ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے ، جس کا سی پیک بھی ایک حصہ ہے۔

یہ قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نے مذکورہ انٹرویو میں سی پیک کو "سب سے بڑی چیز قرار دیا جو پاکستان میں اس وقت ہو رہی ہے”۔ واضح رہے کہ بی 3 ڈبلیو کے ساتھ ، امریکہ ، چین پر قابو پانے کے لئے چار ریاستوں کے گروپ ، جس میں ہندوستان بھی شامل ہے ‘ کواڈ ‘ پر زور دے رہا ہے۔ ان جغرافیائی سیاسی پیشرفتوں پر غور کرتے ہوئے دیکھا جائے تو وزیر اعظم کے خدشات درست ہیں ، اور انہوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ پاکستان اپنے دیرینہ دوستوں کو ترک نہیں کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات واقعتاً دیرینہ ہیں۔ اور اس کو کسی بھی وقتی مفاد یا بے وفا و عارضی دوست کے لئے قربان گاہ پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ ماضی میں بھی بیجنگ ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کے لئے آیا ہے ، اور پاکستان اس کے عزم و امداد کی قدر کرتا ہے۔ تاہم کسی بھی ملک کے لئے نااہل اور بے بنیاد حمایت کی پوزیشن کا جائزہ لیا جانا بھی بین الا اقوامی تعلقات کے لئے ناگزیر ہوتا ہے۔ کیونکہ بین الااقوامی تعلقات ہمیشہ زندہ اور پر وقار قوموں کے قومی مفادات کے تابع ہوتے ہیں ناکہ کسی کی ذاتی مفادات، خواہشات یا ایماء کے ۔
پاکستان کی بھی خواہش ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرے اور سرد جنگ کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین موجود سودی تعلقات سے آگے بڑھے۔ لہذا ، واشنگٹن کو یہ پیغام واضح ہونا چاہیئے کہ پاکستان ان کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے ، لیکن امریکا کو یہ بھی باور کرانا چاہیئے کہ پاکستان اپنے روایتی حلیفوں کو الگ الگ کرنے کے لئے تیار کردہ کسی بھی دشمنی کا فریق نہیں بن سکے گا۔

مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے انخلاء کے بعد اب پاکستان کی ضرورت باقی نہیں رہی اسی لئے امریکا اب بیہودہ ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ حال ہی میں امریکا نے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے اسے چائلڈ سولجرز روک تھام ایکٹ کی فہرست میں شامل کر دیا۔ بظاہر اور حقیقتاً یہ بے بنیاد فیصلہ ہے کیونکہ پاکستان حالت جنگ میں نہیں، نہ ہی پاکستان کسی اور ملک کے ساتھ جنگ کر رہا ہے تو اس طرح سے کم عمر سپاہیوں کو زبردستی بھرتی کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض دباؤ بڑھانے کا حربہ ہے۔ اس سے واشنگٹن پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے نیز اس فیصلے سے پاکستان کی فوج بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ اس فہرست میں شمولیت کے بعد پاک فوج بین الااقوامی امن مشن اور امریکا میں پیشہ ورانہ کورسز پر اپنے فوجی نہیں بھیج سکے گی۔ بلا شبہ یہ غمازی کرتا ہے کہ امریکہ کے لیے پاکستان کی اہمیت اب ختم ہو چکی ہے۔ مزید براں، اب مسقبل قریب میں بھی امریکہ کی طرف سے انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر پاکستان کے حوالے سے منفی رپورٹس قوی متوقع ہیں۔ بلکہ یورپی یونین کی طرف سے بھی ان مسائل پر رپورٹس آئیں گی تاکہ پاکستان پر مزید دباؤ بڑھایا جائے۔۔۔ایسے میں امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں جبکہ وہ برابری کی بنیاد کی بجائے ہمہ وقت پاکستان کا آقا بننے کی کوششیوں میں لگا رہے؟؟؟ واضح رہے فیٹف کی تلوار بھی اسی ضمن پر پاکستان کے سر پر لٹکتی چھوڑی گئی ہے۔

در حقیقت ، خارجہ پالیسی کے تمام فیصلوں کی راہنمائی کرنے کا یہی مذکورہ بالا( قومی مفاد کی ترجیح) منتر ہونا چاہیئے۔ چاہے پاکستان عرب-ایران کے تنازعہ میں شامل ہو رہا ہو یا پھر خارجہ پالیسی کے دیگر سوالات میں ، پاکستان کو اپنی غیرجانبداری کو برقرار رکھنا چاہیئے۔ نیز اسے عملیت ، اصولوں اور قومی مفاد کے مطابق رہنا چاہیئے۔ مثال کے طور پر ، پاکستان نے سنہ 2015ء میں "یمن امبرگليو” ( یمن کے الجھاؤ) میں شامل نہ ہوکر صحیح فیصلہ لیا، حالانکہ اس فیصلے نے ہمارے بہت سارے عرب ‘بھائیوں’ کو ناراض کردیا تھا۔ تاہم، اس موقع پر پارلیمنٹ کی اجتماعی دانشمندی نے پاکستان کو ایک اور دلدل میں پھنسنے سے بچایا تھا۔ لہٰذا ، اب بھی اور آئیندہ بھی جمہوری عمل کے ذریعے ہی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے تمام سوالات کو دانشمندانہ اور انصاف پسندانہ انداز میں طے کیا جانا چاہیئے۔