fbpx

عام عادت جو موت کا سبب بن سکتی ہے

موجودہ دور میں بیشتر افراد دن بھر میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں تاہم نئی بین الاقوامی طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ دن بھر میں صرف 6 سے 8 گھنٹے بیٹھ کر گزارنے سے جلد موت اور امراض قلب کا خطرہ 12 سے 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

باغی ٹی وی : نئی تحقیق اس دلیل میں مزید وزن ڈال رہی ہے کہ زیادہ دیر تک بیٹھنا آپ کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہےسائمن فریزر یونیورسٹی اور چائنیز اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کی مشترکہ تحقیق میں 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زیادہ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر ایک فرد دن بھر میں 8 گھنٹے سے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتا ہے تو جلد موت اور امراض قلب کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

مطالبات منظور، خیبرپختونخوا کے اساتذہ کا بنی گالہ کے باہر دھرنا ختم

سائمن فریزر یونیورسٹی کے ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر سکاٹ لیئر اور بیجنگ کی چائنیز اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے وی لی کی مشترکہ قیادت میں یہ مطالعہ جرنل جاما کارڈیالوجی میں شائع ہوا ہے تحقیق میں شامل افراد کا جائزہ 11 سال تک لیا گیا تھا تاکہ بیٹھنے کے وقت اور صحت پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے اگرچہ تمام ممالک میں بیٹھنا مسئلہ تھا، خاص طور پر کم آمدنی والے اور کم درمیانی آمدنی والے ممالک میں ایسا تھا۔

یہاں سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ آپ کتنے بیٹھیں گے،” لیئر کہتے ہیں۔ "اگر آپ کو بیٹھنا ہی ہے، تو دن کے دوسرے اوقات میں زیادہ ورزش کرنا اس خطرے کو دور کردے گا۔”

تحقیق میں کہا گیا کہ حیرت کی بات نہیں، جو لوگ جسمانی طور پر بہت کم سرگرم ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں جلد موت اورامراض قلب کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اس کے مقابلے میں ایسے افراد جو زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں مگر چند گھنٹے جسمانی طور پر سرگرم رہتے ہیں، ان میں یہ خطرہ گھٹ کر 17 فیصد ہوجاتا ہے۔

محققین نے کہا کہ بیٹھنے کا وقت جتنا کم ہو، بہتر ہے، اگر آپ کو کئی گھنٹے بیٹھ کر گزارنے ہیں تو دن کے دیگر اوقات میں ورزش کو معمول بناکر جلد موت کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں جو لوگ دن میں 4 گھنٹے سے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، وہ بیٹھنے کے وقت میں سے 30 منٹ ورزش کے لیے نکال کر جان لیوا امراض کا خطرہ 2 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

اس تحقیق میں کم آمدنی والے ممالک میں ایک خاص ایسوسی ایشن کا پتہ چلا، جس کی وجہ سے محققین نے قیاس کیا کہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں بیٹھنا عام طور پر اعلی سماجی و اقتصادی حیثیت اور بہتر تنخواہ والی ملازمتوں سے وابستہ ہوتا ہے۔

سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

لئیر نے کہا کہ طبی ماہرین کو کم بیٹھنے اور زیادہ سرگرمی پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ ایک کم لاگت مداخلت ہے جس سے بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہےلیکن جب کہ معالجین کو سرگرمی کے ساتھ بیٹھنے کا مقابلہ کرنے کے بارے میں پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے، افراد کو اپنے طرز زندگی کا بہتر انداز میں جائزہ لینے اور اپنی صحت کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والے افراد میں درمیانی عمر میں شرح اموات 8.8 فیصد ہے، جو تمباکو نوشی (10.6 فیصد) کے قریب ہے۔

محققین کے مطابق یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا حل بہت سادہ ہے، بس اپنی کرسی سے اٹھنے کی ہمت کرلیں کرسی سے اٹھنے کے لیے وقت طے کرنا ایک بہترین آغاز ہے-