آٹا، چینی سیکنڈل رپورٹ، تحقیقاتی کمیشن نے مزید وقت مانگ لیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آٹا اور چینی بحران کی تفتیش کیلئے قائم کیے گئے تحقیقاتی کمیشن نے مزید وقت مانگ لیا ہے۔

کمیشن کو تحقیقات مکمل کرنے کے لئے مزید 2 سے 4 ہفتے کا وقت دیئے جانے کا امکان ہے۔ تحقیقاتی کمیشن کو مزید وقت رپورٹ سے ابہام دور کرنے کیلئے دیا جا رہا ہے۔ کمیشن کی جانب سے 25 اپریل کو دی جانے والی رپورٹ اب مئی میں پیش کی جائے گی۔

آٹا چینی بحران پر ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کو اس سے قبل 25 اپریل کو سامنے لائے جانے امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد وہ سخت ایکشن لیں گے،ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم نے آٹا اور چینی بحران پر اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ رواں مہینے ہی وزیراعظم کو پیش کی تھی،

قبل ازیں چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں چینی آٹا بحران سیکنڈل میں تحقیقات کی منظوری دے دی گئی ہے

چیئرمین نیب کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ چینی ، آٹے کی سمگلنگ،اور قیمتوں میں اضافے پر بھی تحقیقات ہوں گی ،نیب نے اربوں روپے کی ڈکیتی ، سمگلنگ کے حوالہ سے تحقیقات کی منظوری دی ہے.

نیب کی جانب سے جاری اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے گندم اور چینی اسکینڈل کی تحقیقات کی منظوری دے دی ہے، گندم اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مبینہ سمگلنگ اور سبسڈی سمیت تمام پہلوں پر غور کیا جائے گا،

گزشتہ روز نیب کی جانب سے موقف سامنے آیا تھا کہ آٹا چینی بحران رپورٹ پر نیب خاموش نہیں رہے گا،نیب ایگزیکٹو بورڈ نے آٹا اور چینی سکینڈل پر انکوائری کمیشن کی 25 اپریل کو رپورٹ آنے سے قبل ہی باضابطہ انکوائری کی منظوری دیدی ہے

قبل ازیں چینی بحران سے متعلق رپورٹ آنے پر شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی بحران سے متعلق ڈی جی ایف آئی اے کو تفصیلی جواب جمع کرادیا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے 45 صفحات پر مشتمل جواب میں شوگر ملز مالکان پر لگائے جانے والے الزامات کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے ایف آئی اے کو جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہےکہ ایف آئی اے کی رپورٹ من گھڑت اور یکطرفہ تھی، تحقیقات میں شوگر ملز ایسوسی ایشن کا موقف شامل نہیں تھا۔ چینی کے حوالے سے جو اقدامات کیے وہ سب قانونی تھے، اس لیے فرانزک رپورٹ بھی تسلیم نہیں کریں گے اور اگر ایف آئی اے سے انصاف نہ ملا توعدالت سے رجوع کریں گے.

چینی بحران رپورٹ میں کی گئی باتیں غلط، وزیراعظم کو موقف پیش کریں گے، جہانگیر ترین

اسد عمرنے کی بجٹ کی مخالفت، غریب عوام کے دل جیت لئے

ہمیں چور کہا جاتا ہے لیکن بتایا جائے چینی مہنگی کرکے عوام کو کون لوٹ رہا ہے؟ خواجہ آصف برس پڑے

شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

چینی بحران کا ذمہ دار جہانگیر ترین نہیں بلکہ شریف برادران،اہم انکشافات سامنے آ گئے

چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

واضح رہے کہ چینی بحران پر وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 6 گروپوں نے مل کر ایک مافیا کی شکل اختیار کر رکھی ہے اور یہ چینی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے،انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 6 گروپوں کے پاس چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 فیصد حصہ ہے اوریہ آپس میں ہاتھ ملا کر مارکیٹ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ چینی کی پیداوار پر چند لوگوں کا کنٹرول اور ان میں سے بھی زیادہ تر سیاسی بیک گراؤنڈ والے لوگ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پالیسی اور انتظامی معاملات پر کس طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

جہانگیر ترین کے گروپ کی 6 شوگر ملز چینی کی مجموعی ملکی پیداوار کا 19 اعشاریہ 97 فیصد پیدا کرتی ہیں۔ مخدوم خسرو بختیار کے رشتہ دار مخدوم عمر شہریار کے ” آر وائی کے” گروپ کی 6 شوگر ملز ہیں اور یہ 12 اعشاریہ 24 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔ المعز گروپ کی 5 شوگر ملز 6 اعشاریہ 80 فیصد اور تاندلیانوالہ گروپ کی 3 شوگر ملز 4 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔

سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی کے اومنی گروپ کی 10 شوگر ملز ہیں اور وہ 1 اعشاریہ 66 فیصد چینی پیدا کرتے ہیں، شریف فیملی کی 9 شوگر ملز 4 اعشاریہ 54 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں،مذکورہ بالا 6 گروپوں کی 38 شوگر ملز چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 اعشاریہ 10 فیصد پیدا کرتی ہیں جبکہ باقی 51 شوگر ملز 49 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.