fbpx

اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا تحریر:سید مصدق شاہ

وہ دوراہے پر کھڑی تھی۔ اس کے آج کے فیصلے پر اس کی آنے والی زندگی کا دارومدار تھا۔ اس کے راہ زیست کو پھولوں سے سجنا تھا یا وہاں ہمیشہ کانٹے  ہی اگنے تھے یہ اس کے آج کے فیصلے پر منحصر تھا۔ اور وہ۔۔ وہ تو پھول اور کانٹوں میں تمیز ہی نہیں کر پا رہی تھی۔ گھر میں مہندی کا فنکشن جاری تھا۔ کل اس کی بارات آنی تھی۔ اماں کئی مرتبہ آکر اس کی بلائیں لے چکی تھیں۔ 

لڑکیاں ڈھولک لیے اس کے گرد گھیرا بنائے بیٹھی تھی۔ گانے، شوخ قہقہے،ذومعنی جملے، چھیڑ چھاڑ اس سب میں اس کا رویہ کچھ اور ہونا چاہیے تھا 

مگر وہ۔۔

 وہ تو تمام رونقوں سے پرے سوچوں کے عمیق سمندر میں گم تھی۔ 

دوبارہ اسجد کا میسیج آیا تھا۔ اس نے لمبے چوڑے میسیج میں دوبارہ وہی کچھ لکھا تھا کہ وہ اس کے لیے کتنی اہم ہے اور وہ اس کے بنا نہیں رہ سکتا۔ زمانے کو لعن طعن محبت کے قسمیں وعدیں اور آخر میں دوبارہ وہی۔۔ بھاگ جانے کا مشورہ۔۔

 چاہتی تو وہ بھی یہیں تھی۔۔ اسجد اس کی دو سال کی محبت تھا جس سے وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔

 شادی تو وہ بھی کرنا چاہتا تھا۔ مگر کامران بیچ میں آگیا۔ کامران اس کا تایا زاد۔

 اس نے بہت کوشش کی منع کرنے کی مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔

اسے آج فیصلہ کرنا تھا۔ ایک طرف اس کے والدین کے ہنستے مسکراتے چہرے تھے اور دوسری طرف اسجد کی محبت۔ 

وہ سوچ رہی تھی اگر اس نے ایسا کوئی قدم اٹھا لیا تو کیا اس کے ابا معاشرے میں دوبارہ سر اٹھا کر جی پائیں گے۔

وہ مسکان جو ابھی اماں کے چہرے پر سجی ہے کیا وہ دوبارہ مسکرا پائیں گی۔

اسے یاد آیا وہ تو دل کی مریض تھیں۔ کیا وہ یہ صدمہ سہار پائیں گی۔ بہت سے اگر اس کا دل دہلا رہے تھے۔اور اس سے چھوٹی نادیہ۔۔ 

اگر وہ بھاگ گئی تو نادیہ کے لیے گھر کی دیواریں اتنی اونچی کر دی جائیں گی کہ وہ باہر کی دنیا میں جھانک بھی نہ سکے۔کیا وہ ان رشتوں کے بغیر رہ پائے گی۔

 کیا وہ خون کے رشتوں سے کٹ کر سکون کے ساتھ جی پائے گی۔۔نہیں۔۔

پر جی تو وہ اسجد کے بنا بھی نہیں پائے گی اس کے دل سے صدا آئی۔

دل کچھ کہتا اور دماغ اسے رد کر دیتا۔ اور دل بھی کہاں دماغ کے پیش کردہ حقائق کو تسلیم کرتا۔

 اس دل و دماغ کی جنگ میں سبین اسے کھانا دینے آئے جسے اس نے بھوک نہیں ہے کہہ کر واپس بھجوا دیا۔۔

اف۔۔ کیا کرے وہ۔۔ اسجد کے میسج پر میسج آرہے تھے۔

 اس نے ملتان کے لیے دو ٹکٹ لے لیے تھے۔۔فیصلہ ہو چکا تھا۔

 محبت اور رشتوں کی جنگ میں خون کے رشتوں کو مات ہوئی تھی۔

 اس نے سر درد کا بہانہ کیا اور کمرے میں چلی آئی۔

وہاں آکر اس نے کاغز قلم ڈھونڈا۔ کانپتے ہاتھوں سے کچھ سطریں لکھی اور کاغذ ٹیبل لیمپ کے نیچے رکھ دیا۔

کھڑکی کے راستے وہ گھر کے پچھلی جانب آئی جہاں اسجد اپنے دوست کی گاڑی لیے تیار کھڑا تھا۔ اس نے آخری نظر گھر کو دیکھا۔

کچھ چہرے آنکھوں کے سامنے لہرائے۔ اس کے قدم لڑکھڑائے مگر فیصلہ تو وہ کر چکی تھی اب اس پر عمل کرنے کا وقت تھا۔ وہ پہلے اسجد کے دوست کے گھر گئے وہاں ان کا نکاح ہوا۔ پھر اس کا دوست خود انہیں سٹیشن تک چھوڑنے آیا۔

گاڑی لاہور سٹیشن سے نکلی تو اسے لگا جیسے وہ اپنے وجود کا ایک حصہ یہیں کہیں چھوڑے جا رہی ہے۔

 آنسوؤں کی باڑ سے دور جاتا لاہور ریلوے سٹیشن اب دھندلا ہوتا جا رہا تھا۔،،

دو سال بیت چکے تھے تھے اسے اب کبھی کبھار گھر والوں کی یاد ستاتی 

دل انہیں ملنے کو تڑپ اٹھتا  مگر ننھی لائبہ نے اس کی توجہ ہٹا دی تھی ماضی کی تمام یادیں لائبہ کی ننھی قلقاریوں میں گم ہوجاتیں اسجد بھی تو بہت اچھا تھا اس کے ساتھ اس نے اپنی محبت کے تمام وعدے وفا کیے

مگر پھر بھی کہیں ایک خلاصہ باقی رہتا وہ بھی جانتی تھیں کہ خلا کہیں باہر نہیں بلکہ اس کے اندر ہے مگر پھر بھی زندگی حسین تھی اور حسین ہی رہتی اگر اس روز مال میں اسے وہ نہ ملتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لائبہ کو لے کر شاپنگ مال گئی تھی جب پرام کو بچوں کو سیکشن کی طرح دکھیلتے ہوئے اس کی نظر اس لڑکی پر پڑی

 ایک پل کو جیسے اسے یقین نہ آیا یقینا وہ نادیہ تھی

 اس کی نظر بھی پڑھ چکی تھی اور آنکھوں میں شناسائی کی چمک ائی وہ قدم اٹھاتے اس کے پاس چلی آئی

 کیسی ہو نادیہ؟

 دل تو شدت کے ساتھ اسے گلے لگانے کا چاہ رہا تھا تھا مگر بیچ میں دو سال کا فاصلہ حائل تھا 

میں ٹھیک ہوں اپا

 تم کیسی ہو ؟ اس نے بمشکل چہرے پر مُسکان سجا لی تھی

تم ۔۔۔۔یہاں کیسے۔۔۔

اس کی حیرت ہنوز قائم تھی

میں یہاں دو ماہ پہلے آئی تھی کامران کی پوسٹنگ ہوگئی ہے نا یہاں

کامران ۔۔۔۔ اس نے بے یقینی سے اپنی چھوٹی بہن کی طرف دیکھا

ہاں آپا کسی نے تو ابا کی عزت رکھنی تھی نا

اسے یقین نہیں آرہا تھا نادیہ اس سے پانچ سال چھوٹی تھی یعنی کامران نادیہ سے آٹھ سال بڑا تھا ایسے میں کوئی مرد شاپنگ بیگ تھامے اس کی جانب آیا تھا بلاشبہ کامران تھا اسے دیکھ کر وہ پل کو ٹھٹکا

 پھر چہرے پر سختی کے آثار آگئے 

میں کاونٹر پر ہوں وہی آجانا نادیہ کو بتا کر وہ کاونٹر کی طرف بڑھ گیا

 آپی یہ تمہاری بیٹی ہے؟

اس کی نظر ابھی لائبہ پر پڑی تھی۔۔ ہاں ، اس نے جھک کر اسے پیار کیا تھا ماشاء اللہ بہت پیاری ہے

کامران ٹھیک ہے نا تمہارے ساتھ ؟

اس کے دل میں کئی اندیشے جاگ رہے تھے

ہاں کامران بہت اچھے ہیں آپا وہ نا بھی بولتی تو اس کے چہرے پر آنے والے رنگ خوشگوار ازدواجی زندگی کا پتا دے رہے تھے 

اور اماں ابا۔۔۔؟ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا

وہ فورا سیدھی کھڑی ہوئی لبوں کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی اپا تم مغرور تھی ان کا

تمہیں دیکھ کر جیتے تھے وہ

 تم نے اماں سے ان کی زندگی اور ابا سے ان کا غرور چھین لیا

اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا

تمہارے جانے کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ جان لیوا ثابت ہوا وہ الفاظ نہیں تھی بلکہ پھگلا ہوا سیسہ تھا جو اس کے کانوں میں انڈیلا جا رہا تھا

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی

ابا تو شاید اس دن کے بعد بولنا ہی بھول گئےکبھی کسی نے انہیں ہنستے ہوئے نہیں دیکھا

اسے لگا کہ کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے کر مسل دیا ہے

آپا پتہ ہے اماں نے مرنے سے پہلے تمہارے بارے میں کیا کہا تھا؟

وہ یک ٹک اسے دیکھنے جارہی تھی

ماں نے کہا تھا تم بھی میری طرح یوں ہی تڑپو گی  اسے لگا کہ کسی نے اسے پاتال میں دھکیل دیا ہو

وہ کتنی ہی دیر گم صم کھڑی رہی نادیہ اپنی بات کہہ کر جا چکی تھی وہ بھی اپنے اعمال کردہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے گھر کو چل پڑی بے آب اسے پوری زندگی اس بوجھ کے ساتھ جینا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت ماہ و سال پر اپنی گرد ڈال کر انہیں ماضی میں بدلتا رہا اور یوں 20 سال گزر گئے لائبہ جوان ہو چکی تھی اللہ نے لائبہ کے بعد اسے کوئی اولاد نہیں دی

 وقت نے اس کے بالوں میں چاندی اتار دی تھی

 سب کچھ بدل گیا تھا اگر کچھ نہیں بدلا تو اس کا پچھتاوا  تھا 

اسے روز رات کو خواب میں اماں ابا کا چہرہ نظر آتا تھا

 اسے نادیہ کی باتوں کی گونج سنائی دیتی اماں اس کا کاندھا جھنجوڑ کر کہتی تو نے ہمیں تڑپایا ہے تو بھی یوں ہی تڑپے گی وہ نیند میں جاگ جاتی اور دوبارہ سو ہی نا پاتی

 اب تو اسے نیند اور دواؤں کے بنانیند ہی نہیں آتی جاگتے ہوئے بھی ایسے ہی خیال ذہن میں آتے رہتے ہیں

سب کہتے لائبہ بالکل اس پر گئی ہے وہی آنکھیں وہی ناک نقشہ اور وہ دہل جاتی 

کہیں وہ بھی میری طرح۔۔۔۔۔۔

اس سے آگے وہ سوچ نا پاتی

وہ ہر وقت اسے دیکھتی رہتی اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کرتی جوں ہی وہ کالج سے اتی اس کا بیگ گھنگالتی۔

وہ سو رہی ہوتی تو کئی بار اس کے کمرے میں جا کر اسے دیکھ کر تسلی کرتی اسجد اور لائبہ دونوں ہی اس کے ان عادت سے نالاں تھے

اسجد تو پھر سمجھ جاتا پر لائبہ اس پر چڑھ دوڑتی اسے خوب سناتی پر وہ پھر بھی نہ رہ پاتی

 ٹی وی میں یا کسی شخص سے کسی لڑکی کے گھر سے بھاگ جانے کا سنتی تو اس کا زخم ہرا ہو جاتا کئی دن  گم صم بیٹھی رہتی ایسے میں وہ خود سے بھی بے خبر رہتی اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتی رہتی 

پھر کچھ دن بعد اسی جون میں واپس آجاتی اور لائبہ کے ساتھ وہی رویہ اپنا لیتی

ڈاکٹرز کہتے تھے کہ اسے کوئی نفسیاتی عارضہ ہے مگر وہ تو اپنے اعمال کی فصل کاٹ رہی تھی جو زہر اس نے 20 سال پہلے بویا تھا اب وہ ایک تناور درخت بن چکا تھا اور اس کا زہر اس کے اپنے جسم میں سرایت کر چکا تھا

 اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا اس زہریلے درخت کی چھاؤں تلے

(ختم شدہ)

Tweeter Id Handel:  @