fbpx

اب ہو گا کراچی سرسبز،ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے خوشخبری سنادی،

ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ میٹروپول ٹرائی اینگل پر پہلے میاواکی فارسٹ سے کراچی میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے 300 اربن فارسٹ لگانے کا کام شروع کردیا ہے، ہیٹ اسٹروک اور بارشوں کی کمی جیسے مسائل سے نمٹنے میں یہ جنگلات مدد فراہم کریں گے جس سے ماحول میں بہتری آئے گی اور شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا، این ای ڈی یونیورسٹی اس سلسلے میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہے جبکہ فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن کی بھی مالی معاونت شامل ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز میٹروپول ٹرائی اینگل پر پہلے میاواکی فارسٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹی کلچر طٰحہ سلیم، سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن خالد خان، فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن کے امین عطاری، ڈائریکٹر پارکس جنید اللہ خان اور دیگر افسران بھی موجود تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے میٹروپول ٹرائی اینگل میں پودا لگا کر میاواکی فارسٹ کا آغاز کیا، انہوں نے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ
ٹیکنالوجیی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی رو سے کراچی میں کل 300 میاواکی فارسٹ لگائے جائیں گے جس کا آغاز آج یہاں سے ہو رہا ہے، یہ فارسٹ ایسی جگہوں پر لگائے جاتے ہیں جہاں ٹریفک اور ہجوم زیادہ ہو، ایک مربع میٹر میں 9 درخت لگائے جاتے ہیں، میٹروپول ٹرائی اینگل میں 90 درخت لگائے جا رہے ہیں جن میں کا ٹیا پام، سلک فلاکس ٹری، املتاس، کچنار، یوجنا، کاشیا اور دیگر درخت شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ ان درختوں کے لئے ایک خاص قسم کی مٹی استعمال کی جاتی ہے جس میں یہ درخت جلد جڑیں پکڑ لیتے ہیں، کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں میاواکی فارسٹ ٹیکنالوجی انتہائی موثر ثابت ہوگی، یہ ٹیکنالوجی جاپان سے آئی ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں میٹروپولیٹن شہروں نے اس کا کامیابی کے ساتھ استعمال کرکے شہری علاقوں میں اربن فارسٹ کے خواب کو عملی جامہ پہنایا ہے، انہوں نے کہا کہ صنعتی اور کمرشل مراکز میں فضائی آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درختوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، کراچی میں جاری شجرکاری مہم بھی اسی مقصد کے تحت شروع کی گئی ہے جس میں فلاحی ادارے اور صنعت کاروں کی انجمنیں تعاون کر رہی ہیں،اربن فارسٹ نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی لاتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ بارشیں لا کر خوشگوار موسمی تبدیلی کا سبب بنتے ہیں، ماضی میں ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے کراچی میں خاصی خطرناک صورت حال سامنے آچکی ہے جس کے پیش نظر اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر موسم کی حدت کو کنٹرول کیا جائے، انہوں نے کہا کہ شہر کے بنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سرسبز کراچی کے منصوبے پر بھی عملدرآمد جاری ہے یہ امر خوش آئند ہے کہ شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز اس حوالے سے کے ایم سی کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں، خاص طور پر سول سوسائٹی اور فلاحی تنظیمیں ہر قسم کی مدد اور رہنمائی مہیا کر رہی ہیں، کراچی میں خاص طور پر ایسے مقامات کا انتخاب کر کے میاواکی فارسٹ لگائے جائیں گے جہاں ٹریفک کا شدید دباؤ ہے اور لوگوں کا ہجوم رہتا ہے کیونکہ ان جگہوں کو خوبصورت اور سرسبز بنانا ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ یہ پودے جب تناور درخت بنیں گے تو ان جگہوں کا منظر تبدیل ہوجائے گا اور شہر میں ایک مثبت اور صحت مند تبدیلی محسوس کی جائے گی، میاواکی فارسٹ منصوبے میں کے ایم سی کا کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ اس میں فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن مالی معاونت کر رہی ہے تاہم ان درختوں کی حفاظت اور آبیاری کے ایم سی کرے گی اور مقررہ وقت تک ان کی نگہبانی کی جائے گی، ایڈ منسٹریٹر کراچی نے امید ظاہر کی کہ دنیا کے دیگر بڑے شہروں کی طرح کراچی میں بھی میاواکی فارسٹ لگانے کا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور اس کے نتیجے میں شہر میں خوشگوار تبدیلی آئے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.