fbpx

ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہو گا کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے انسان کو سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ اس وقت یہی کام مودی سرکار کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ مودی جب سے وزیر اعظم بنا ہے اس نے اس تمام عرصے میں خود کو دنیا کے سامنے بہت ہی قابل اور اعلی لیڈر بنا کر پیش کرنے کے چکر میں اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب وہ خود مودی سرکار کے گلے پڑ رہے ہیں۔ آج مودی سرکار کا جو جھوٹ پکڑا گیا ہے اس کی وجہ سے پورے انڈیا کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ مودی سرکار کی جانب سے ایک ایسے انسان کو اعلی ایوارڈ دیا گیا جس کا مشن فیل ہو گیا تھا اور وہ پاکستان کے رحم و کرم پر تھا اگر پاکستان اس کو رہا کرکے واپس بھارت کے حوالے نہ کرتا تو وہ اب تک پاکستان کی جیل میں سڑ رہا ہوتا۔ لیکن انڈیا نے اپنے زیرو اور کھوٹے سکے کو ایسے ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی کہ وہ یہ بھول گئے کہ ان کا یہ نکما اور نالائق پائلٹ پاکستان میں کیا کارنامہ کرکے آیا تھا اس کا یونیفارم بھی آج تک پاکستانی فوج کے میوزیم میں سجا ہوا ہے۔

انڈیا کے تین بڑے ایوارڈز ہیں پرم ویر چکرا، مہا ویر چکرا اور ویر چکرا جو جنگوں میں بہادری دکھانے والے افراد کو دیا جاتا ہے۔ اور آج مودی سرکار نے ائیر فورس پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو اپنے تیسرے بڑے ایوارڈ ویر چکرا سے نوازا ہے۔یہاں میں آپ کو یاد کروا دوں کہ یہ وہی بہادر پائلٹ ہیں جنہوں نے پہلے پاکستانی عوام سے مار کھائی پھر پاک فوج نے اس کی جان بچائی اور اس کو گرفتار کیا لیکن جذبہ خیر سگالی کے طور پر اسے Fantastic tea پلا کر واپس انڈیا کے حوالے کر دیا تھا۔جبکہ مودی سرکار نے ابھی نندن کو ایوارڈ یہ کہہ کر دیا ہے کہ اس نے ایک پاکستانی ایف 16 مارگرایا تھا۔ہوا یہ تھا کہ دو سال پہلے چھبیس فروری کو انڈین جہازوائلیشن کرتے ہوئے پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں داخل ہوئے اور وہاں بم گرا کر حملہ کیا۔ جس پر انڈین فوج، حکومت اور میڈیا تینوں نے مل کر یہ واویلا کرنا شروع کر دیا کہ وہاں کوئی جہادی کیمپس تھے جس پر حملہ کر کے اڑا دیا گیا۔ حالانکہ جس جگہ یہ کاروائی ہوئی تھی وہاں نہ تو کوئی کیمپ تھا اور نہ ہی اس میں کوئی ہلاکت ہوئی تھی۔ ہاں ہمارے کچھ درخت ضرور اس حملے میں جل گئے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔اس کے بعد اگلے ہی روز ایک بار پھر انڈین طیاروں نے پاکستانی علاقوں میں گھسنے کی کوشش کی جس پر پاکستانی فضائیہ نے جوابی کارروائی کی جس کے دوران انڈین مگ21اڑانے والے ابھینندن کے جہاز کو نشانہ بنا کر گرا دیا گیا تھا اور ابھینندن کو پاکستانی حدود میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ 60 گھنٹے تک قید میں رہا تھا۔ لیکن انڈین میڈیا شور مچاتا رہا کہ بھارت نے تاریخ رقم کر دی ہے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی مگ21 طیارے نے کسی ایف 16 طیارے کو تباہ کیا ہو۔ کیونکہ مگ 21 پرانا جنگی طیارہ ہے اور ایف 16 کے مقابلے میں اس کی جنگی صلاحیت کہیں کم ہے۔

حالانکہ پاکستان کئی مرتبہ اس انڈین دعوے کی تردید کر چکا ہے لیکن پھر بھی جب انڈیا اپنے جھوٹے پراپیگنڈہ سے باز یہ آیا توغیرملکی فوجی طیاروں کی فروخت پر استعمال کے معاہدے کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو دعوت دی کہ امریکی حکام خود آ کر ایف16 طیاروں کی گنتی کریں۔ جس کے بعد امریکی میگزین فارن پالیسی نے اس پر اپنی ایک مکمل رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا کہ اس واقع کی سچائی کو پرکھنے کے لئے امریکہ کے محکمہ دفاع کے اہلکاروں نے پاکستانی ایف 16 طیاروں کی گنتی کی تھی اور وہ تعداد میں پورے تھے اس لئے جب تمام جہاز پورے تھے تو آپ سوچ لیں کہ بھارت نے کونسا جہاز گرایا تھا۔ فارن پالیسی کی اس تصدیقی رپورٹ کے بعد اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ انڈیا کی جانب سے حملے اور اس کے اثرات کے بارے میں بھی دعوے جھوٹے ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ انڈیا اپنی طرف ہونے والے نقصان بشمول پاکستان کے ہاتھوں اپنے دوسرے طیارے کی تباہی کے بارے میں سچ بولے۔ لیکن سچ بولنا تو دور بھارت نے تو اور زیادہ ڈرامہ کرنا شروع کر دیا۔ ابھی چند ماہ پہلے ابھی نندن کو ترقی دے کرونگ کمانڈر سے گروپ کپٹین بنایا گیا۔ جس کے بعد مودی سرکار نے سوچا کہ جب اس کو ترقی دینے پر سب خاموش رہے ہیں تو اب کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر اس کو ایوارڈ بھی دے دیا جائے۔

مودی سرکار یہ سب کیوں کر رہی ہے۔ دراصل انڈیا میں اس وقت غربت سے برا حال ہے۔ مودی کو اس کی تمام پالیسیوں پر مار پڑ رہی ہے۔ کسانوں کے سامنے جس طرح مودی کو ہار مان کر معافی مانگنا پڑی اور اپنے تینوں قوانین واپس لینا پڑے وہ بھی پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ اس کے بعد اب سی اے اے اور این آر سی کو بھی واپس کروانے کے لئے ایک بار پھر تحریک زور پکڑنے لگی ہے۔ چین کے ہاتھوں جس طرح انڈین فوج کی پٹائی ہوتی رہی ہے وہ بھی ہم سب نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی صورت میں دیکھا۔ اور اب چین مسلسل انڈیا کے علاقوں میں اپنے گاوں تعمیر کر رہا ہے دو گاوں آباد ہونے کے ثبوت تو خود امریکی ادارے دنیا کے سامنے لاچکے ہیں لیکن بھارتی فوج یا حکومت میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس بات کو تسلیم ہی کر لیں کہ چین یہ سب کر رہا ہے۔ کیونکہ الیکشنز سر پر ہیں اگر وہ یہ مان لیں تو وہ اپنی عوام کو کیا جواب دیں گے۔ چین کے ساتھ موجودہ حالات کی وجہ سے ان کی فوج کا مورال پہلے ہی بہت ڈاون ہے۔ اس لئے اپنی طرف سے تو مودی سرکار نے انڈین فضائیہ کا مورال بلند کرنے اور ان کو حوصلہ دینے کے لئے یہ سب ڈرامہ کیا تھا اور اس ڈرامے کی حقیقت مودی اور راج ناتھ کی شکلوں سے بھی پتا چل رہی ہے کہ کیسے جب ابھی نندن کو ایوارڈ دینے کے لئے بلایا گیا اور وہ جھوٹی کہانی سنائی گئی تو راج ناتھ اپنے ہاتھ مل رہا تھا مودی کی شکل پر بھی بارہ بج رہے تھے کوئی خوشی نہیں تھی نہ ہی ان دونوں نے اس کے لئے کوئی پر زور تالیاں بجائیں کیونکہ یہ جانتے تھے کہ وہ اس کو ایک جھوٹا ایوارڈ دے رہے ہیں۔ لیکن ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کا جھوٹ اتنی بری طرح بے نقاب ہو جائے گا اور سوشل میڈیا پر پوری دنیا کے سامنے ان کی جگ ہنسائی ہو گی۔کوئی سوشل میڈیا پر کہہ رہا ہے کہ۔۔ میں بہادر ابھینندن کو ایف سولہ گرانے اور پھر اپنی جیت کا جشن منانے کے لیے اپنے جہاز سے ایجیکٹ ہوکر پاکستان چائے پینے کے لیے اترنے پر مبارکبا دیتا ہوں۔کسی نے کہا کہ بالی ووڈ نے اکیلے پوری انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کرپٹ کردیا ہے۔ایک صارف نے ٹوئیٹ کی کہ ابھینندن کو پاکستان میں مشن کے فیل ہونے پر ایوارڈ دیا جارہا ہے۔کوئی کہہ رہا ہے کہ۔۔ انڈیا کو ہیرو کو زیرو بنانا بخوبی آتا ہے۔ایک نے ٹوئیٹ کی کہ ابھینندن کو خود بھی نہیں پتا کہ انہیں ویر چکرا دیا کیوں گیا ہے۔ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ۔۔ صرف وزیراعظم نریندر مودی اور انڈین میڈیا کے حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار کی وجہ سے بیچارے ابھی نندن کو بار بار اس وقت کو یاد کرنا پڑتا ہے۔

لیکن اب مودی کو کون سمجھائے کہ آپ اپنے گودی میڈیا کے ساتھ مل کر انڈین عوام اور پوری دنیا کو اس طرح سے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ حقیقت میں کیا ہوا تھا۔ ورنہ اگر آپ چاہتے ہیں تو پاکستانی فوج کے پاس ابھی نندن کی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جس میں وہ خود اپنی فضائیہ میں موجود خرابیوں کا اعتراف کر رہا ہے اس کے علاوہ اپنی فیملی کے ساتھ رابطے میں بھی اس نے مودی سرکار اور انڈین فوج کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس لئے مودی اور اس کے وزیر دفاع راج ناتھ کو چاہیے کہ پاکستان کے بارے میں کوئی بھی بیان بازی کرنے سے پہلے سوچ لیا کریں کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں ورنہ آپ کے پاس تو ایف سولہ گرانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن ہمارے پاس ویڈیوز ہیں جو ہم سوشل میڈیا پر ریلیز کر سکتے ہیں۔ اپنے الیکشنز کی تیاری کرنی ہے تو اپنی کارکردگی کے سر پر کریں پاکستان پر جھوٹی بیان بازی مت کریں۔