fbpx

اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن

طالبہ کے ٹیکسٹائل کچرے سے تیار دریوں اور میٹس کی عالمی میلے میں پذیرائی ملی.

 جرمنی میں جاری ہوم ٹیکسٹائل مصنوعات کی سب سے بڑی عالمی نمائش پاکستانی مصنوعات کی ایکسپورٹ بڑھانے میں معاون ثابت ہونے کے ساتھ پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بھی ایک موثر پلیٹ فارم بن گئی۔ پاکستانی ٹیکسٹائل ڈیزائنر کے ٹیکسٹائل کے کچرے سے تیار کردہ دیدہ زیب دریاں (رگز) اور میٹس ٹیکسٹائل انڈسٹری کے عالمی میلے ہیم ٹیکسٹائل نمائش میں عالمی برانڈز اور یورپی ڈیزائنر کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹک کی گرجویٹ ام کلثوم علی اکبر نے ٹی شرٹس کی تیاری کے بعد بچ جانے والے کپڑوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ہاتھ سے بنے ہوئے دل کش رگز اور میٹس میں تبدیل کردیا۔ ام کلثوم کا تخلیقی آئیڈیا ٹیکسٹائل کی صنعت کے فضلے سے پاکستان میں بڑھنے والی ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد فراہم کرے گا جس کے ذریعے کچرے کو خزانے میں تبدیل کرکے پاکستان کے لیے زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

ام کلثوم کے تیار کیے گئے میٹس اور رگز ٹیکسٹائل کے عالمی میلے ہیم ٹیکسٹائل نمائش میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ماحول دوست طریقوں کو اجاگر کرنے والے خصوصی پویلین میں عالمی برانڈز، انٹریریئر ڈیزائنرز اور ڈیزائنرز کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں،ام کلثوم کا انتخاب ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ماحول دوست بنانے کے تخلیقی آئیڈیاز کے عالمی مقابلے میں کیا گیا۔ نیو اینڈ نیکسٹ یونیورسٹی کے تحت ہونے والے اس مقابلے میں دنیا کی 33سے زائد یونیورسٹیوں کے 150 طلبا نے ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ماحول دوست بنانے کے لیے اپنے پراجیکٹ اور تھیسس پیش کیے۔ نیو اینڈ نیکسٹ یونیورسٹی اور ہیم ٹیکسٹائل کے عالمی ماہرین پر مشتمل ایک جیوری نے تمام آئیڈیاز کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے ٹیکسٹائل اور گارمنٹ انڈسٹری کے کچرے بشمول کاٹن، سینتھیٹک اور فائبر فیبرک رگز اور میٹس بناکر ماحول تحفظ کے لیے پاکستانی طالبہ کے آئیڈے کو عالمی نمائش کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا۔

ہیم ٹیکسٹائل کے موقع پر ام کلثوم نے اپنے اسٹال پر نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یورپ، چین اور جاپان کے ساتھ پاکستان کی معروف برانڈز نے بھی ان کی تکنیک میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یورپی اور جاپان کی کمپنیاں ٹیکسٹائل کے کچرے سے تیار ان رگز اور میٹس کو اپنی برانڈ شناخت کے ساتھ دنیا میں پیش کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں اسی طرح چینی کمپنی نے انہیں چھوٹے سائز کے میٹس تیار کرنے کے ابتدائی آرڈر دیے ہیں۔ جرمنی کی ایک وال پیپر کمپنی ان نمونوں کو وال پیپر کی شکل دینے کے لیے اشتراک کی پیش کش کی ہے۔ ام کلثوم نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل کے کچرے سے پھیلنے والی آلودگی پر اب تک کسی کی توجہ نہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی کو ماحول کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں حالانکہ پلاسٹک کی طرح ٹیکسٹائل کے کچرے کو بھی ری سائیکل یا دوبارہ استعمال میں نہ لایا جائے تو یہ طویل عرصہ تک ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتا ہے بالخصوص سینتھیٹک فائبر سے بننے والا ڈینم اور فیبرک سنگین ماحولیاتی خطرات کا سبب ہے۔

ام کلثوم کے مطابق انہوں نے ٹی شرٹ فیکٹری سے نکلنے والے اس کچرے کو استعمال کیا گیا جسے پھینک دیا جاتا ہے، چھوٹی چندیوں اور کترنوں کی شکل میں نکلنے والے اس کچرے سے دھاگہ بناکر بنائی (ویونگ) کی مختلف تکنیکوں سے میٹس اور رگز تیار کیے گئے ہیں۔ جن کی ایکسپورٹ سے نہ صرف زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ام کلثوم کا آئیڈیا کچرے کو خزانے میں بدلنے کی مثال ہے، ٹیکسٹائل اور گارمنٹ کمپنیوں کے لیے ٹیکسٹائل کا ویسٹ ایک دردسر ہے جسے ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی ہورہی ہے اور عالمی خریدار پاکستانی فرمز سے اس بات کا تقاضہ کررہے ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات اور پراسیس کو ماحول دوست بنائیں۔ ام کلثو کے اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے کی شکل دے کر نہ صرف معاشی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ صنعتی فضلہ ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگاکر پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مشکلات میں بھی کمی لائی جاسکے گی۔