اداروں کو عزت دو بقلم: محمد نعیم ہاشمی

اداروں کو عزت دو
محمد نعیم ہاشمی

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کے بہت سے کارہائے نمایاں اور خدمات ہیں۔ ان خدمات میں بطور خاص میاں صاحب کی طرف سے اردو زبان میں جدید نعروں کا اضافہ ضرور یاد رکھا جائے گا۔ آپ کے ذہن میں ان نعروں کی گونج تو ہو گی۔ کیا کہا، ذہن سے محو ہو گئے۔ بھئی آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں بھلائی نہیں جاتیں۔ چلیں کوئی بات نہیں۔ ہم بتائے دیتے ہیں۔ ایک نعرہ تو تھا "مجھے کیوں نکالا” مگر وہ صرف موقعے پر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک سدا بہار قسم کا نعرہ بھی تھا۔

جی ہاں بالکل درست، آپ نے درست اندازہ لگایا۔ وہ نعرہ تھا "ووٹ کا عزت دو” (اگرچہ ووٹ بریانی کی پلیٹ کے عوض ہی لیا گیا ہو۔) اس نعرے کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی اور کئی موقعوں پر استعمال بھی ہوا۔ اس نعرے میں کچھ حک و اضافہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ "اداروں کو عزت دو”۔ اس خیال کا شان نزول یہ ہے کہ اکثر حکومتی ادارے سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کی طرح بے حال ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ سرکاری نوکری کو مال مفت سمجھنے والے افسران دل بے رحم کے ساتھ اپنے فرائض منصبی بخوبی نبھانے کی بجائے اپنے عہدے اور نوکری سے کما حقہ جفا کرتے ہیں۔ سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کا نعم البدل نجی سکولوں اور ہسپتالوں کی صورت میں میسر ہے مگر دیگر محکمہ جات میں یہ ممکن نہ ہے اور یہی کمی اس نعرے کی تخلیق کا سبب بنی۔

سرکاری وسائل کا نجی ضروریات کے لیے استعمال، دفتری امور میں عدم توجہ اور سائلین کو لمبے عرصے تک ٹرخاتے رہنا اس کی چیدہ چیدہ مثالیں ہیں۔ دو عشرے پہلے ایک دوست کو نادرا سے بچوں کا ب فارم بنوانا تھا۔ تاحال دفتروں کے چکر لگا رہا ہے مگر مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ہر چکر پر کوئی نئی داستان اور نیا پروسیجر سننے کو ملتا ہے اور اس طرح تحقیق کا یہ عمل تا حال جاری ہے۔ حکام بالا سے گزارش ہے کہ "اداروں کو عزت دو” کے نعرے کو عملی شکل دی جائے تاکہ عوام سرکاری محکموں سے متنفر نہ ہو اور با سہولت اپنا کام پورا کر سکے۔

وزارت کا قلمدان کوئی پاس نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.