fbpx

اداکاری کے آغاز میں ہی فیصلہ کر لیا تھا ڈراموں میں کسطرح کی والدہ اور ساس کا کردار ادا کرنا ہے

پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی نامور اور سینئر اداکارہ صبا فیصل کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈراموں کے آغاز میں ہی فیصلہ کر لیاتھا کہ کس طرح کی والدہ اور ساس کا کردار ادا کرنا ہے-

باغی ٹی وی :صبا فیصل نے 5 درجن سے زائد ڈراموں اور چند فلموں میں بھی کام کیا ہے، انہیں اداکاری کرتے ہوئے ڈیڑھ دہائی کا عرصہ ہوچکا ہے صبا فیصل ڈراموں میں منفی اور مثبت دونوں طرح کے کرداروں میں نظر آتی ہیں انہیں سخت گیر ساس اور بچوں کے ناز اٹھانے والی والدہ کے کرداروں کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

تاہم اپنے اس کردار کے حوالے سے صبا فیصل نے حال ہی میں برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ عام طور پر لوگ انہیں کرداروں کی طرح سخت گیر سمجھتے ہیں۔

صبا فیصل کا کہنا تھا کہ اگرچہ اداکاروں کا کرداروں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر لوگ انہیں کرداروں جیسا ہی سمجھنے لگتے ہیں اور انہیں انڈسٹری کے لوگ بھی ڈراموں کی سخت گیر ساس اور خاتون کی طرح سمجھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لوگ مجھے سخت اور کھڑوس سمجھنے لگے ہیں جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے بات کرتے ہوئے جھجھکتے ہیں۔ جب میں کسی نئے سیٹ پر جاتی ہوں تو عملے کے لوگ اور ساتھی فنکار مجھ سے بے تکلف ہونے میں کچھ دن لگاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمیں لگا کہ آپ بہت سخت قسم کی خاتون ہوں گی، ہم تو بہت گھبرائے ہوئے تھے لیکن آپ تو بہت نرم مزاج ہیں۔

تاہم صبا فیصل اس امیج کے بارے میں ہنستے ہوئے کہا کہ میں کبھی کبھی اس تاثر کا فائدہ بھی اٹھا لیتی ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ وہ زیادہ اداکاری نہیں کرتیں اور کم ہی ڈراموں میں دکھائی دیتی ہیں تاہم یہ ان کے ڈراموں کی خوبصورتی اور ان کا معیار ہے جو انہیں ہر جگہ نمایاں کر دیتا ہے ان جاندار کرداروں کی وجہ سے ان کی باتیں ہوتی رہتی ہیں اور لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ زیادہ کام کرتی ہیں۔

صبا فیصل کے مطابق انہیں اداکاری کے آغاز میں ہی ہمایوں سعید کی والدہ کا کردار ملا جس پر وہ قدرے جھجھک رہی تھیں اور انہوں نے اس وقت ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ انہیں ڈراموں میں کس طرح کی والدہ اور ساس کا کردار ادا کرنا ہے۔

صبا فیصل کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے لیے کرداروں کے انتخاب میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ آگے چل کر انہیں وہی کردار ملے جو شاید ان کے لیے ہی بنائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ تب سے اب تک مجھے کوئی ثانوی قسم کا کردار نہیں ملا، میرا کردار متوازی ہوتا ہے اگر ایک طرف ہیرو ہیروئن ہوتے ہیں تو دوسری طرف اس کی ماں ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت آن ایئر ڈرامے ’قیامت‘ میں انہیں اپنا ’سخت مزاج ساس ‘ کا کردار کرنے میں بہت مزا آیا جو آج تک کسی دوسرے کردار میں نہیں آیا تھا۔

اداکارہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انہیں منفی کردار اچھے لگتے ہیں، کیوں کہ ایسے کرداروں کے ڈائیلاگ بھی جاندار اور زیادہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی زندگی میں والدہ اور ساس ہونے کا انہیں فائدہ ہوا ہے اور انہوں نے حقیقی زندگی کے تجربات کو کرداروں میں ڈھالا۔

صبا فیصل کے مطابق جس انسان کی حقیقی زندگی میں اولاد اور اس نے مشکلات دیکھی ہوں تو انہیں ڈراموں میں اولاد کے کرداروں کے لیے روتے وقت جھوٹے آنسوں کے لیے گلیسرین کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ حقیقی زندگی کی تلخیاں یاد کرکے کردار ادا کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ان کے مقبول ڈراموں میں قیامت، میرا سائیں، اک تمنا لاحاصل سی، در شہوار، ہمسفر، مرات العروس، شہر اجنبی، کتنی گرہنیں باقی ہیں، میرے خدا، دل جانم، بندھے اک ڈور سے، شاہ رخ کی سالیاں، بن بادل برسات اور پہلی سی محبت شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.