fbpx

عدالت نے پی ٹی آئی قیادت کے خلاف توہین مذہب مقدمات درج کرنے سے روک دیا

عدالت نے پی ٹی آئی قیادت کے خلاف توہین مذہب مقدمات درج کرنے سے روک دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق توہین مسجد نبوی واقعہ پر تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری کے خلاف درج مقدموں کے حوالہ سے سماعت ہوئی،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ میں افسوسناک واقعہ اور مشال ملک والا واقعہ بھی ہوا،اسلام آباد پولیس نے رپورٹ دی 4 درخواستوں پر انویسٹی گیشن جاری ہے مقدمہ درج نہیں ہوا مذہبی جذبات قابل قدر ہیں لیکن ریاست کی بھی ذمہ داری ہے،اس عدالت کے پاس ایک درخواست آئی تھی وہ مسترد کر دی ہے،مذہب کو اس طرح سیاست میں نہیں گھسیٹا جانا چاہیے، اس درخواست میں کوئی قابل دست اندازی جرم ہی نہیں تو مقدمہ کیسے درج ہوا، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ متعلقہ عدالت میں مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کی جانی چاہیے تھی،فیصل چودھری ایڈوکیٹ نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت کوئی حکومت موجود نہیں ہے، فواد چوھدری نے کہا کہ اس مقدمے میں پانچ سات سو لوگوں کو شامل کیا گیا ہے، عمران خان، شیخ رشید، قاسم سوری اور شہباز گل کو نامزد کیا گیا ہے،ہمارا بڑا واضح موقف ہے کہ ہمارا استعفی منظور ہو چکا ہے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست نے ماضی میں مذہب کی بنیاد پر ایسی حرکتیں کی ہیں، ہوئی یا نہیں ہوئی لوگوں کہ زندگیاں تو خطرے میں پڑی ہیں، ہم نے تو یہ دیکھنا ہے کہ ڈی نوٹیفائی کیا جا چکا یا نہیں یہ آئین ہی سب کو یکجا رکھ سکتا ہے،اس آئین کی پچھلے 70سال میں بہت بے توقیری ہو چکی، سیاسی قیادت کا کام ہے کہ لوگوں کو آگاہ کریں کہ آئین سپریم لاہے،

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کو پی ٹی آئی قیادت کے خلاف توہین مذہب مقدمات درج کرنے سے روک دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں لگتا ہے کہ یہ مقدمات بنتے ہی نہیں، مقدمات درج کرنے سے پہلے عدالت کو مطمئن کریں کہ یہ مقدمات کیسے بنتے ہیں،ادارے بھی اسی آئین کے تابع ہیں سیاسی قیادت کو اداروں کی قیادت سے یہی امید رکھنی چاہیے کہ وہ آئین کے مطابق کام کریں، اگر وہ آئین کے مطابق کام نہیں کرتے تو یہ بھی سیاسی قیادت کا کام ہے کہ انکا احتساب کرے، مدینہ منورہ میں جو ہوا وہ افسوسناک ہے لیکن وہ وہاں ہوا ہے،ریاست کو چاہیے کہ پوری لیڈرشپ کو بٹھائے، یہ طے کیا جائے کہ مذہب کو ٹُول کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، اس سے نقصان بہت ہو چکا ہے،یہ کیسز بنانے سے پہلے انکو وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تھا ،وکیل نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کمٹمنٹ ہونی چاہیے کہ وہ مذہبی کارڈ کبھی استعمال نہیں کرینگے، عدالت نے فواد چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی بہت کچھ اس طرح کا ہوتا رہا ہے، وکیل نے کہا کہ ہمارے خلاف درج مقدمہ خارج کیا جائے،عدالت نے کہا کہ جو مقدمہ درج ہوا وہ میں نے دیکھا ہے وہ تو درج ہونا ہی نہیں چاہیے تھا،یہ جو کچھ ہو رہا ہے مستقبل میں اس کو کس طرح سے روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی کر دی

قبل ازیں فواد چودھری کی توہین مذہب مقدمات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی ،فواد چودھری نے کہا کہ میں ان مقدمات پر بہت حیران ہوا ہوں،ماضی میں کسی نے توہین مذہب کے مقدمات نہیں بنائے اس وزیرداخلہ سے تو کسی کو کوئی امید نہیں ہے، وزیر قانون سے میرا بڑا تعلق ہے لیکن ان پر بڑی حیرانی ہوئی،ہم نے فساد تو نہیں کرانے ہوتے لاشوں پر سے چل کر تو وزیر نہیں بننا ہوتا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مذہب کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا خود سے توہین ہے،یہ انسانی حقوق کی بہت خلاف ورزی ہے، یہ سیاسی قیادت کا کام ہے کہ معاشرے میں بردباری پیدا کریں،معاشرے میں بردباری نہیں ہو گی اور اس طرح کے کام ہونگے تو پھر تو غلط ہو گاجو ہوا وہ بالکل بھی درست نہیں تھا،بادی النظر میں پاکستان میں درج ہونے والے مقدمات درست نہیں ہیں،

قبل ازیں واقعے پر قاسم سوری کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کی وکیل قاسم سوری نے عدالت کو بتایا کہ ملک بھر میں اس طرح کی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں ۔مقدمات کےاندراج کے بعد مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے، عدالت اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے کیس میں اسٹے آرڈر دے چکی ہے، فواد چودھری کیس بھی آج ہی سماعت کیلئے مقررہے دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا قاسم سوری ڈی نوٹیفائی ہو گئے ہیں ؟ وکیل قاسم سوری نے بتایا کہ انہوں نے استعفی دیا ہے مگر وہ ڈی نوٹیفائی نہیں ہوئے عدالت نے قاسم سوری کی درخواست کو فواد چودھری کی درخواست کے ساتھ یکجا کر دیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کو بھی اس کے ساتھ ہی دیکھ لیں گے

وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران مسجد نبوی میں نازیبا واقعہ پیش آیا، پاکستانی شہریوں کی جانب سے چور چور کے نعرے لگائے گئے، اس پر سعودی حکومت نے بھی ایکشن لیا اور کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے، پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان، شیخ رشید، فواد چودھری، انیل مسرت سمیت کئی رہنماؤں پر فیصل آباد، اٹک میں مقدمہ درج ہو چکا ہے، شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد گرفتار ہو چکے ہیں، حکومت نے مقدموں میں نامزد دیگر افراد کی گرفتاری کا بھی اعلان کر رکھا ہے،

مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، رانا ثناء اللہ نے بڑا اعلان کر دیا

سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے کہ حکومت ایکشن کیوں نہیں لے رہی۔ مریم نواز کا ردعمل

سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

شیخ راشد شفیق کی عدالت پیشی،عید گزاریں گے جیل میں

توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

توہین مذہب مقدمہ، چھٹی کے روز درخواست پر سماعت، عدالت نے بڑا حکم دے دیا