fbpx

پاکستان نیوی یا کسی ریاستی ادارے کا نام ریئل اسٹیٹ بزنس میں استعمال نہیں ہو سکتا، عدالت

راول جھیل کے کنارے سیلنگ کلب کی تعمیر غیر قانونی قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 45صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا. عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ پاکستان نیوی یا کسی ریاستی ادارے کا نام ریئل اسٹیٹ بزنس میں استعمال نہیں ہو سکتا،پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے آفس کے نام پر زمین کا انتقال غیر آئینی اور غیر قانونی ہے،وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 173 کے تحت زمین کی ملکیت کو ڈیل کرے، عدالت نے
سی ڈی اے کو پاکستان نیول فارمز کی اراضی کا قبضہ لینے کی ہدایت کر دی. عدالت نے حکم دیا کہ عدالتی حکم کےمطابق کارروائی کر کے 2 ہفتوں میں رپورٹ جمع کرائی جائے، راول جھیل کے کنارے نیوی سیلنگ کلب غیر قانونی ہے، عمارت3ہفتوں میں گرائی جائے، سابق نیول چیف نے غیر قانونی عمارت کا افتتاح کر کے حلف کی خلاف ورزی کی، غیر قانونی عمارت کی تعمیر اور افتتاح میں شامل افراد فوجداری کارروائی کا سامنا کریں، مجاز اتھارٹی یقینی بنائے کہ فوجداری کارروائی کا آغاز کیا جائے،سابق نیول چیف کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی بھی کی جائے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کا فرانزک آڈٹ کرائیں، فرانزک آڈٹ کے ذریعے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جائے،غیر قانونی وینچر میں ملوث افسران کا تعین کر کے ان سے نقصان پورا کیا جائے،عدالت نے سیکریٹری کابینہ ڈویژن کو عدالتی فیصلے کی نقل وزیراعظم اور کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کر دی. عدالت نے کہا کہ اسلام آباد کے 1400 اسکوائر میل ایریا میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے،ڈاکٹر پرویز حسن کو عمل درآمد کمیشن مقرر کرنے کا حکم عدالت نے دیا . عدالت نے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی اور ڈی جی انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کو معاونت کو ہدایت کی . عدالت نے کمیشن کی کارروائی کی رپورٹ رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے راول جھیل کے کنارے بنائی گئی عمارتوں کے خلاف محفوظ فیصلہ سنا دیا .اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلہ سنایا.عدالت نے راول جھیل کے کنارے سیلنگ کلب کی تعمیر غیر قانونی قرار دے دی عدالت نے سلینگ کلب کو 3 ہفتوں میں گرانے کا حکم دے دیا اور عمل درآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی.عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ادارے کا اختیار نہیں کہ وہ کسی بھی قسم کے رئیل اسٹیٹ وینچر میں شامل ہو .سی ڈی اے کو اختیار نہیں تھا کہ وہ فارمز کو این او سی جاری کرتی

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پاکستان نیوی نے نیشنل پارک ایریا پر تجاوز کیا، سیلنگ کلب غیر قانونی ہے، سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے غیر قانونی عمارت کا افتتاح کر کے اپنے آئین کی خلاف ورزی کی، عدالت نے غیر قانونی عمارت میں ملوث افراد کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی کا حکم دیا. عدالت نے حکم دیا کہ آڈیٹر جنرل کو نیول فارمز کا آڈٹ کر کے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگائیں۔

عدالت نے کل فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے .،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ سے استفسار کیا کہ فیصلہ سنانے سے پہلے دو وضاحتیں ضروری ہیں، اگر قانون میں اجازت نہ ہو تو آپ اس کو بھی این او سی جاری کر دیتے ہیں،ہائی کورٹ بزنس نہیں کر سکتی، اگر ہم اپلائی کریں تو کیا این او سی جاری کر دیں گے؟ ممبر سٹیٹ سی ڈی اے نے کہا کہ قانون میں اگر اجازت نہ ہو تو پھر اجازت نہیں دے سکتے، عدالت نے کہا کہ ایسی درخواست آنے پر آپ کا پہلا اعتراض ہی یہ ہونا چاہئے کہ درخواست زیرغور ہی نہیں لا سکتے،کیا زون فور میں 1993 میں تعمیرات ہو سکتی تھیں؟ ممبر پلاننگ سی ڈی اے نے کہا کہ اُس وقت وہاں صرف فارم ہاؤسز کی اجازت تھی،

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا نیوی سیلنگ کلب ابھی تک سیل ہے، ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے نے جواب دیا کہ نیوی سیلنگ کلب تاحال سیل ہے،بلڈنگ بائی لاز 2020 کے تحت غیر قانونی عمارت کو منہدم کیا جاتا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کا این او سی ہی منسوخ ہو جائے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے نے کہا کہ این او سی منسوخ ہو جائے تو ہم اسے اپنی تحویل میں لے لیتے ہیں،این او سی کے بغیر کام کرنے والی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مینجمنٹ آفسز بھی سیل کرتے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اس کیس میں آپ نیول ہیڈکوارٹرز کو بھی سیل کرینگے،ڈائریکٹر ہاؤسنگ نیول فارمز کون ہے؟ کیا آپ ان کا آفس بھی جا کر سیل کریں گے؟ راول جھیل پر چھوٹے ڈیمز کے کنارے تعمیرات پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کا راول جھیل کے قریب کمرشل بلڈنگ سیل کرنے کا حکم

آئی بی افسران کا ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، رقم لیکر ترقیاتی کام کروانے کی بجائے مزید زمین خرید لی

ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

ملک میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

نیب سے کون خوفزدہ تھا؟ ترمیمی آرڈیننس کیوں لائے؟ وزیراعظم نے بتا دیا

نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی مدت ختم، نیب کو پھر مل گئے وسیع اختیارات

علیم خان کی سوسائٹی کیخلاف عدالت میں روزدرخواستیں آرہی ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس

علیم خان اتنے بااثرکہ ریاست نے اپنی زمین استعمال کیلئے دے دی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس

کوئی ایم پی اے ہے یا وزیر؟ قانون سے بالاتر نہیں،علیم خان اراضی قبضہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے ریمارکس

اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت نہیں تورا بورا ہے،وفاقی ادارے اسٹیٹ ایجنٹ بنے ہوئے ہیں،عدالت کے ریمارکس

تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

اگر کلب کوریگولرائزکر دینگے توجو عام آدمی کا گھربن گیا اس کو کسطرح گرا سکتے ہیں؟ عدالت

وفاقی ترقیاتی ادارے کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے،عدالت کا برہمی کا اظہار

لوگوں سے باپ دادا کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں،ریاستی ادارے کرپشن میں ملوث ہیں، عدالت