fbpx

عدالتوں کا کام نہیں کہ ملک کے پالیسی معاملات میں مداخلت کریں،عدالت

عدالتوں کا کام نہیں کہ ملک کے پالیسی معاملات میں مداخلت کریں،عدالت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کورونا کے باعث اے اور او لیول کے طلباکی فزیکل امتحانات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتے ،درخواست این سی او سی کو بھیج دیتے ہیں عدالتوں کا کام نہیں کہ ملک کے پالیسی معاملات میں مداخلت کریں ہم نے کورونا معاملات میں این سی او سی پالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کی ویسے بھی حکومت کیمرج کو کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتی حکومت صرف ان امتحانات سے متعلق یہاں سہولت فراہم کرتی ہے،

عدالت نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں حکومت ان کو امتحان لینے سے روک دے؟ وکیل نے کہا کہ میں کوئی ایسی چیز نہیں مانگ رہا جو کیمرج کی پالیسی نہ ہو،میری درخواست کیمرج کے خلاف نہیں ، دو آپشن دیئے، سعودی عرب، تھائی لینڈ اور بھارت نے آن لائن امتحان کے آپشن کو اپنایا ہے، عدالت نے کہا کہ 9درخواست گزار ہیں ،ہو سکتا ہے باقی ہزاروں فزیکل امتحان دینا چاہتے ہوں،نو پٹشنر ہزاروں طلبہ کے نمائندے تو نہیں ہو سکتے، کیا بچے امتحانات نہیں دینا چاہتے؟ کیسے طلبا ہیں جو امتحان نہیں دینا چاہتے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.