fbpx

ادب و احترام گھر کو جنت بنا دیتا ہے | تحریر :عدنان یوسفزئی

گھر ایک ایسا معاشرتی مرکز ہے جو جنت کی تصویر بھی ہے اور دوزخ کا نمونہ بھی، قرآن کی رو سے دوزخ کی آگ کے شعلے چاروں طرف سے گھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن گھر کی دوزخ کے شعلے انسانوں کو نظر نہیں آتے ۔مگر وہ ان کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں ۔بےچینی، اضطراب مایوسی، بےسکونی جیسی بہت سی کیفیات نے افراد خانہ کو اس قدر ایک دوسرے سے بیگانہ بنادیا ہے کہ حشر کا سا سماں معلوم ہوتا ہے غصہ، حسد، تکبر، نخوت اور غیبت جیسے سینکڑوں روحانی امراض نے افراد خانہ میں بے ادبی اور بداحترامی کو جنم دیا ہے ۔

یہی بے ادبی اور بداحترامی افراد میں عدم تعاون اور عدم مطابقت کا باعث ہے ۔گھر کا چھوٹا سا معاشرہ نظارہ جنت کی بجائے نظارہ دوزخ ہے ۔جب معاشرہ کے بیشتر گھروں میں یہ کیفیات نشوونما پاتی ہیں تو تمام معاشرہ بداخلاقیوں کا نمونہ بنتا ہے ۔یہی بداخلاقیاں افراد معاشرہ کے لئے ازخود اس دنیا میں عذاب کا موجب بنتی ہیں، گویا یہ عذاب فانی ہے مگر وہ اسی سے آنے والے "ابدی” عذاب کے مستحق بنتے چلے جاتے ہیں ۔

اس کے برعکس باہمی ادب و احترام وہ کنجی ہے جس سے ہر قسم کے تالے کھلتے چلے جاتے ہیں۔یہی وہ صراطِ مستقیم جس پر چل کر افراد میں محبت وپیار کے سوتے پھوٹتے ہیں، ایثار اور قربانی کے جذبے کار فرما ہوتے ہیں، بغض وعناد کے شعلے ٹھنڈے ہوتے ہیں ۔احساسات محرومی پر صبر کرنا آتا ہے، ہر عمل پر بدنیتی، نیک نیتی میں تبدیل ہوتی ہے ۔باہمی احترام سے نیکیوں میں اضافہ اور بدیوں میں کمی آتی ہے ۔معیار زندگی کے حصول کی دوڑ ختم ہوتی ہے ۔احترام آدمیت کی تربیت کا شوق پیدا ہوتا ہے ۔قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی و حفاظت ہوتی ہے ۔انفرادیت کی بجائے اجتماعیت جلا پاتی ہے ۔ہر فرد سب کے لئے اور سب ایک کے لئے سوچتے ہیں ۔ایک گھر ہی نہیں، بلکہ تمام معاشرہ فلاح وبہبود کا نمونہ بنتا ہے ۔

کامیابی کے لئے ہر وقت اور ہر مقام پر دو چیزیں ضروری ہیں ۔ایک ایمان اور دوسرے نیک اعمال ایک بنیاد ہے اور دوسری عمارت خوبصورت عمارت کے لئے مضبوط بنیاد کی اشد ضرورت ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انسان اور کائنات کو پیدا کیا ۔انسانوں میں باہمی ادب و احترام کی بنیاد اللہ کا ادب و احترام ہے اللہ تعالیٰ کا ادب و احترام کیا ہے؟

اللہ کو محض اور محض ایک مانا جائے ۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے، اسی لئے شرک کو سب سے بڑی بے ادبی، بداحترامی، بدتمیزی اور ظلم عظیم کہا گیا ہے ۔مزید اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین، کسی سے کچھ نہ ہونے کا یقین ہو، کسی اور سے بات بننے کا یقین اللہ کی سب سے بڑی بے ادبی ہے ۔اللہ کا بے ادب کسی اور کا ادب و احترام نہیں کرسکتا ۔دوسرے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور انہیں کے طریقوں میں کامیابی کا مکمل یقین ہو، غیروں کے طریقوں میں خدا کے رسول کی بے ادبی اور بداحترامی کا یقین ہو ۔الغرض ایمانیات ہوں، عبادات ہوں اور اخلاق و معاملات ہوں ۔اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ادب و احترام کا ایک خاص معیار قائم کیا ہے ۔اس معیار کو قائم کیے بغیر باہمی ادب و احترام کا تصور کرنا غلط ہے ۔گھر ہو یا معاشرہ، اخلاق و معاملات کے اس معیار کو مشعل راہ بنانا ہوگا، ورنہ جنت نہ یہ دنیا بنے گی اور نہ اس دنیا میں ملے گی ۔

اس وقت ضرورت ہے کہ مسلمان قوم کو اسباب برکت پر لایا جائے، مسلمان معاشرہ میں عملاً اسباب برکت کو رواج دیا جائے، تاکہ انسانیت خدائی برکت کے ثمرات ولوازمات سے مستفیض ہوسکے ۔

آسان ترین اور معاشرہ میں ہر محلہ گھر اور ہر فرد کیلئے جسم و روح کی تسکین و خوشی کا ذریعہ، ظاہری و باطنی جسمانی و روحانی برکتوں سے مالا مال کردینے والا مجرب نسخہ برکت کیا ہے؟

سنئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا البرکتہ مع اکابرکم برکت تمہارے بڑوں کیساتھ ہے ۔بڑوں کا ادب و احترام اور ان کی راحت رسانی اور ان کے حقوق کی ادائیگی برکتوں کے نزول کا بہترین اور یقینی ذریعہ ہے ۔

بے شمار واقعات اس پر شاہد ہیں کہ والدین کے خدمت گزار اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے اور ان کے حقوق شریعت کے مطابق ادا کرنے والے کو ہر طرح کی برکتوں سے نوازا گیا اور ایسے ہی اساتذہ اور علماء اور اہل اللہ کا ادب و احترام اور ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق ادا کرنے والے کے علم و عمل اور تقوی و طہارت میں ظاہری و باطنی برکتیں نمایاں نظر آتی ہیں اور اس کے برعکس جو لوگ بڑوں کے حقوق میں کوتاہی کرتے ہیں، والدین اور اساتذہ کا ادب و احترام اور حسن سلوک شریعت کے مطابق نہیں کرتے تو ان کی ہر چیز میں بے برکتی ہی بے برکتی ہے اور یہی شکوہ و گلہ زبان زد عام ہے کہ کسی چیز میں برکت نہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے بڑوں کا ادب و احترام کرنیوالا بنائے ۔

Twitter | @AdnaniYousafzai