fbpx

اڈیالہ جیل میں کرپشن اور قیدیوں پر ٹارچر کا انکشاف

اڈیالہ جیل میں کرپشن اور قیدیوں پر ٹارچر کا انکشاف ہوا ہے.

اڈیالہ جیل میں کرپشن اور حراست کے دوران قیدیوں پر ٹارچر کا انکشاف ہوا ہے، انسانی حقوق کمیشن نے رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اڈیالہ جیل میں قیدی پر ٹارچر کے خلاف کیس کی سماعت۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال اور جیل حکام عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ وزارت انسانی قیدی کی جانب سے طبی معائنے کی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی گئی۔
مزید پڑھیں: سرکاری مشینری اور ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال؛ عمران خان کو دوبارہ نوٹس جاری
میں خوفزدہ ہوں اور اس معاملے پر بات کرنے کی حالت میں نہیں ہوں،طلاق کے بعد فیروز خان کا بیان
اڈیالہ جیل کے قیدی پر جیل حکام کے ٹارچر کی بادی النظر میں تصدیق ہوگئی۔ انسانی حقوق کمیشن نے جیل حراست میں ٹارچر اور کرپشن کی نشاندہی بھی کرتے ہوئے رپورٹ پیش کردی۔ عدالت نے کہا کہ پمز کے ڈاکٹر نے قیدی کا طبی معائنہ کیا ، میڈیکل رپورٹ قیدی کے والدین کی شکایت کے ٹارچر کے الزام کو سپورٹ کرتی ہے، میڈیکل آفیسر نے بتایا کہ قیدی کے نشان ٹارچر کی وجہ سے بھی ہو سکتے ہیں ، بادی النظر میں میڈیکل رپورٹ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ظاہر کرتی ہے۔

عدالت نے سیکرٹری انسانی حقوق کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جو پیسے دیتا ہے وہ جیل میں موبائل فون بھی استعمال کرتا ہے ملاقاتیں بھی کرتا ہے ، جو قیدی غریب ہو کیا ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ ہائی کورٹ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو تنبیہہ کی کہ اگر کسی قیدی کی شکایت آئی تو عدالت بہت سیریس ایکشن لے گی، اب عدالت اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرائے گی۔